چین میں طاقتور ترین طوفان ‘ڈولفن’ سے تباہی: دس لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی

Calender Icon پیر 10 اگست 2026

چین کے مشرقی ساحل پر اس سال کا سب سے طاقتور ترین سمندری طوفان ’ڈولفن‘ (Dolphin)ٹکرا گیا ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں اور انتہائی تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے بعد سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کی وارننگز جاری کر دی گئی ہیں۔

چین سے قبل یہ طوفان جاپان کی جنوبی کاؤنٹی اوکیناوا سے گزرا تھا جہاں اس نے چھ افراد کو زخمی کیا اور پچاس ہزار سے زائد عمارتوں کی بجلی معطل کر دی۔

چین کے محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق، طوفان ڈولفن اتوار کی شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب مشرقی صوبے ژجیانگ کے علاقے یو ہوان کے قریب ساحل سے ٹکرایا۔ اس دوران طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 42 میٹر فی سیکنڈ یعنی 151 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جو کہ سفیر سمپسن اسکیل پر کیٹیگری ون کے ہولناک طوفان کے برابر ہے۔

طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر حکام نے ساحل سے دور کام کرنے والے ملازمین کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا، کشتیوں کو بندرگاہوں پر واپس بلا لیا گیا تھا اور ڈیموں، پہاڑی ندی نالوں، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں اور سیاحتی مقامات پر نگرانی سخت کر دی گئی تھی۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ دس اگست تک ژجیانگ، شنگھائی، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، وسطی اور جنوبی انہوئی، اور جیانگ سو کے بیشتر حصوں میں شدید بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ ژجیانگ کے کچھ حصوں میں 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش کا امکان ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستان کے ساحلی علاقے کے قریب زلزلے کے جھٹکے

نیشنل میٹروولوجیکل سینٹر کے چیف فورکاسٹر وانگ ہائی پنگ نے سرکاری ٹی وی ’سی سی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد طوفان ڈولفن کے مغرب کی طرف بڑھنے کی پیش گوئی ہے، جس کے بعد یہ وسطی اور جنوب مغربی چین کے اوپر سست پڑ جائے گا اور اس کی شدت میں بتدریج کمی آئے گی۔

وانگ ہائی پنگ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے شدید بارشوں کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے اور خاص طور پر پہاڑی علاقوں اور چھوٹے دریاؤں کے آس پاس سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس طوفان کی وجہ سے ملک کے مشرقی حصوں میں نقل و حمل کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ اکیلے شنگھائی شہر سے تیس ہزار تین سو سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق لگ بھگ پندرہ سو پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

صوبہ گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے ایک بیالیس سالہ سیاح، جن کا خاندانی نام چن ہے، انہوں نے بتایا کہ طوفان کی وجہ سے اتوار کو ان کی فلائٹ منسوخ ہو گئی اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ شنگھائی میں پھنس گئے۔

چن نے صورتحال پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب پیر کی رات دس بجے کی فلائٹ کی ٹکٹ ملی ہے لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ جہاز پرواز کرسکے گا یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم گوانگ ڈونگ کے لوگوں کے لیے یہ طوفان اتنا ہی عام ہے جیسے کھانا کھانا اور ہوا کو محسوس کرنا، یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے، کیونکہ چین کے جنوبی ساحل کے حساب سے یہ طوفان بہت زیادہ طاقتور محسوس نہیں ہو رہا۔

دوسری جانب پڑوسی صوبے ژجیانگ کے شہر وینژو نے نو لاکھ سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر کے ایک ہزار سے زیادہ ہنگامی پناہ گاہیں قائم کر دی ہیں۔

ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، فوجیان صوبے میں طوفان کی ہنگامی صورتحال کا الرٹ لیول تھری تک بڑھانے کے بعد حکام نے خطرناک علاقوں سے 98 ہزار 900 افراد کو نکالا ہے۔ شنگھائی، ژجیانگ اور جیانگ سو میں بھی لیول تھری کا الرٹ نافذ ہے۔

فوجیان کے بحری حکام کا کہنا ہے کہ پچپن ساحلی مسافر فیری روٹس معطل کر دیے گئے ہیں، سمندر میں جاری تمام 115 تعمیراتی منصوبے روک دیے گئے ہیں اور 290 تعمیراتی جہازوں کو محفوظ پانیوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پانی کے وسائل کی وزارت نے الرٹ جاری کیا ہے کہ چیانتانگ، یونگ، جیاؤ اور شوئی یانگ دریاؤں میں بڑا سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ شنگھائی کی میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے بتایا ہے کہ یانگ شان بندرگاہ سے بڑے جہازوں کو ہٹا کر پانچ سو سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے جہازوں کو محفوظ جگہ پہنچا دیا گیا ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔