کولمبیا میں 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے سے 111 افراد ہلاک، عمارتیں منہدم

Calender Icon منگل 11 اگست 2026

جنوبی امریکا کے ملک کولمبیا میں 7.4 شدت کے طاقتور زلزلے(Earthquake) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 111 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ سیکڑوں عمارتیں منہدم ہوگئیں تاہم ملبے تلے افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے باعث امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ صدر ابیلا ردو دے لا ایسپرییلا نے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پیر کے روز کولمبیا کے مغربی علاقے میں 7.4 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کا مرکز صوبہ چوکُو کے علاقے سان ہوزے ڈیل پالمر کے قریب تھا، یہ چاکو ریجن میں واقع تقریباً 4 ہزار 800 آبادی پر مشتمل علاقہ ہے جو دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 400 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ زمین کے اندر تقریباً 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔ زلزلے کے نتیجے میں ملک کے مغربی علاقوں میں متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں جب کہ سڑکوں اور دیگر مقامات پر ملبہ پھیل گیا۔

پیریرا شہر کے میئر کے مطابق منہدم ہونے والی عمارتوں میں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد امدادی کارکنوں اور شہریوں نے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش شروع کردی۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا 11 اگست کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

مقامی حکام کے مطابق زلزلے سے کم از کم 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ریسارالدا ریجن میں ہوئی ہیں، جہاں پیریرا شہر واقع ہے، اس علاقے میں 40 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ویلے ڈیل کاؤکا ریجن میں 27 افراد جان سے گئے۔ حکام کے مطابق ویلے ڈیل کاؤکا میں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 3 بچے بھی شامل ہیں۔

حکام نے چوکو میں 9، کالداس میں 2 اور انٹیوکیا میں ایک 73 سالہ شخص کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

زلزلے سے پیریرا، کوئبدو، کالی اور مانی زالیس سمیت کولمبیا کے مغربی علاقوں کے کئی شہر متاثر ہوئے۔ کولمبیا کے وزیر داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 20 سے زائد بلدیاتی علاقوں میں زلزلے کے اثرات اور نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔

کالی کے میئر کے مطابق تقریباً 19 منہدم عمارتوں میں افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پیریرا کے میئر موریسیو سالازار نے بھی بتایا کہ بڑی تعداد میں منہدم عمارتوں کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

زلزلے کے شدید جھٹکے دارالحکومت بوگوٹا سمیت کئی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ پڑوسی ممالک ایکواڈور اور پاناما میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم وہاں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ گزشتہ 10 سال کے دوران ملک میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ شدت کا زلزلہ ہے۔ زلزلے کے بعد 2.8 اور 4.8 شدت کے دو آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث حکام نے مزید جھٹکوں کے خدشے کے پیش نظر صورتحال کی نگرانی شروع کردی۔

زلزلے کے باعث ملک کے 6 ہوائی اڈوں پر بھی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور پروازیں معطل کردی گئیں۔ حکام کے مطابق مانی زالیس، کوئبدو، آرمینیا، کارتاگو، بویناوینتورا اور پیریرا کے ہوائی اڈے متاثر ہوئے ہیں۔

پیریرا شہر میں مقامی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر اور ویڈیوز میں ایئرپورٹ کی چھت کے کچھ حصے گرنے کے مناظر بھی سامنے آئے۔ زلزلے کے دوران خوف زدہ مسافروں کو چیختے ہوئے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا گیا جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں عمارتوں کا ملبہ سڑکوں پر بکھرا نظر آیا۔

کالی شہر کے 64 سالہ ٹیکسی ڈرائیور جارج مونکایو نے بتایا کہ انہوں نے شہر کی پہاڑیوں سے عمارتیں منہدم ہونے کے بعد گرد و غبار کے بادل اٹھتے دیکھے۔ ان کے مطابق شہری اور امدادی کارکن ملبے میں زندہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

کولمبیا میں زلزلے کی شدت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پڑوسی ملک وینزویلا جون کے آخر میں آنے والے مسلسل دو شدید زلزلوں سے متاثر ہوا تھا۔ ان زلزلوں میں سیکڑوں عمارتیں تباہ اور 5 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کولمبیا کا بحرالکاہل سے متصل وہ خطہ جہاں زلزلے کا مرکز تھا، رِنگ آف فائر کا حصہ ہے۔ بحرالکاہل کے گرد واقع اس زلزلہ خیز پٹی میں دنیا کے زیادہ تر زلزلے آتے ہیں۔ چوکو کولمبیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کا بڑا حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے، جہاں کئی علاقوں تک رسائی صرف کشتی یا طیارے کے ذریعے ممکن ہے، جس کے باعث مجموعی نقصان کا اندازہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کولمبیا میں چھوٹی شدت کے زلزلے عام ہیں تاہم 6 سے زیادہ شدت کے زلزلے نسبتاً کم آتے ہیں۔ 1999 میں آرمینیا شہر کے قریب 6.2 شدت کے زلزلے میں ایک ہزار 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کولمبیا کے حال ہی میں صدر منتخب ہونے والے ابیلاردو دے لا ایسپرییلا نے زلزلے کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی حالت سے زلزلے کے بعد بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ خود سان خوسے ڈیل پالمر کے متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے اور حکومت کی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

یہ صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییلا کے لیے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا بڑا بحران بھی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں صدر کا منصب سنبھالا ہے۔

امریکا سمیت خطے کے متعدد ممالک نے کولمبیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کولمبیا کے عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔

میکسیکو، برازیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سمیت کئی ممالک نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عالمی ادارہ مدد کے لیے تیار ہے۔

کولمبیا میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کی جانب سے زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ مزید آفٹر شاکس کے خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کی نگرانی بھی جاری ہے۔