پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا(salman akram raja) اور پارٹی رہنما مشال یوسفزئی سے منسوب مبینہ آڈیو لیک سامنے آگئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ تاہم آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
مبینہ آڈیو میں سلمان اکرم راجا سے منسوب آواز اپنی سیاسی زندگی اور ذاتی کردار کا دفاع کرتی سنائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کھلی کتاب ہے اور ان کی زندگی کے کسی لمحے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔
دوسری جانب مشال یوسفزئی سے منسوب آواز پارٹی کے قانونی معاملات اور بار کونسلز سے متعلق معاملات پر سخت اعتراضات اٹھاتی ہے۔
An alleged audio recording of a heated exchange between PTI Secretary General Salman Akram Raja and PTI Senator Mashal Yousafzai has gone viral on social media.#pakistan #lahore #karachi #islamabad #instagram #love #india #pakistani #instagood #fashion #pakistanifashion #photogr pic.twitter.com/fVcTq1ZJdC
— Aly 🇵🇰🇸🇦🇹🇷🇬🇧 🇳🇱 🇧🇪 🇫🇷 🇨🇭 🇩🇪 🇮🇹 (@iamabdul_ch) August 10, 2026
مبینہ گفتگو میں پارلیمنٹیرینز کے عدالتوں میں کردار، بار کونسل کے ارکان کے ذریعے دباؤ بڑھانے، ٹکٹوں کے لیے مبینہ طور پر رقم لینے اور لابنگ کے ذریعے ٹیم تشکیل دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:اداکارہ درِ فشاں کے انگریزی لہجے پر شدید تنقید، صنم سعید ٹرولرز کے خلاف بول پڑیں
مشال یوسفزئی سے منسوب آواز مبینہ طور پر کنسلٹنسی فیس کی مد میں کروڑوں روپے کے اخراجات پر بھی سوال اٹھاتی ہے اور جواب دہی کا مطالبہ کرتی ہے۔
مبینہ آڈیو میں پی ٹی آئی کے بانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آڈیو لیک کے حوالے سے تاحال سلمان اکرم راجا، مشال یوسفزئی یا پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔













منگل 11 اگست 2026 

