سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاست دان اسد عمر(Asad Umar) نے کہا کہ محسن نقوی کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔
سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاست دان اسد عمر نےنجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ملکی سیاسی نظام، حکومت کی کارکردگی، نئے صوبوں کے قیام، مقامی حکومتوں کے اختیارات اور کراچی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ زندگی میں کبھی ایسا دن آئے گا جب انہیں یہ کہنا پڑے گا کہ محسن نقوی کی باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ سسٹم بیٹھ چکا ہے اور جب نظام کے اوپر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ نظام زمیں بوس ہو گیا ہے، جبکہ آج اقتدار میں بیٹھے دونوں خاندان عوام کے فیصلے کی بنیاد پر نہیں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومتی کارکردگی بالخصوص پنجاب کے عوام کو پسند نہیں آئی، جس کے نتیجے میں پارٹی یکے بعد دیگرے ضمنی انتخابات اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں پشاور تک میں ہار گئی۔
ملک میں مزید صوبے بنانے کے حامی اسد عمر نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام اور اس کے طریقہ کار کا واضح ذکر موجود ہے۔ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی قراردادیں بھی منظور ہو چکی ہیں، اس لیے جہاں اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہیں سے اس کا آغاز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام اختیارات اور وسائل صوبائی حکومتوں نے اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہیں، اور سندھ میں تو جو تھوڑے بہت اختیارات مقامی حکومتوں کے پاس تھے، وہ بھی صوبائی حکومت نے چھین لیے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عون چوہدری سے دوبارہ شادی اللّٰہ کی لکھی تقدیر کا حصہ تھا: نور بخاری
حامی اسد عمر نے کہا کہ اصل کام بلدیاتی آئینی ترمیم ہے تاکہ مقامی حکومتوں کے اختیارات آئین میں محفوظ کر دیے جائیں اور آئین میں یہ واضح درج ہونا چاہیے کہ کون کون سے ٹیکس مقامی حکومتیں وصول کریں گی۔ اس کے علاوہ، این ایف سی ایوارڈ میں صرف وفاق اور صوبوں کا حصہ طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ قومی مالیاتی کمیشن میں مقامی حکومتوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں۔
اسد عمر نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کا وزیراعلیٰ اختیارات اور وسائل چھوڑنے کو تیار نہیں، یہ لوگ سیاسی لیڈر نہیں بلکہ “بادشاہ سلامت” ہیں جو کہتے ہیں کہ جو بھی کام کروانا ہے میرے پاس آؤ، اور اسی وجہ سے وہ نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کرتے۔
انہوں نے ملک کے موجودہ نظام کو “ہوا میں معلق جمہوریت” قرار دیا۔ سندھ اور کراچی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، اگلے 50 سال تک بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کا پانی کا منصوبہ “کے فور”، جو 2023 میں مکمل ہونا تھا، موجودہ رفتار سے فنڈز ملنے کی صورت میں 2029 تک بھی مکمل نہیں ہو گا۔ سندھ میں تمام وسائل وزیراعلیٰ اور ایک پارٹی کے چیئرمین کے پاس ہیں، جبکہ مرتضیٰ وہاب کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی کوئی اختیار، وہ شہر کیا چلائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزار میل دور اسلام آباد میں بیٹھی حکومت کو کراچی کا کوئی درد نہیں ہے، اور کراچی کو ٹھیک کرنے کے لیے اسلام آباد یا راولپنڈی کو نہیں بلکہ خود کراچی کو بااختیار بنانا ہوگا۔













پیر 17 اگست 2026 

