نئی عالمی درجہ بندی: بیرون ملک رہنے کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کونسے؟

Calender Icon منگل 18 اگست 2026

بیرونِ ملک جا کر نئی زندگی شروع کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے سال 2026 کی نئی عالمی درجہ بندی سامنے آگئی ہے جس میں پاناما(Panama) کو دنیا بھر میں تارکین وطن یا بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے بہترین ملک قرار دیا گیا ہے جبکہ میکسیکو دوسرے، تھائی لینڈ تیسرے اور متحدہ عرب امارات چوتھے نمبر پر رہا۔

بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنز کے 2026 کے ’ایکسپیٹ انسائیڈر‘ سروے میں 31 ممالک کو معیارِ زندگی، مقامی لوگوں سے گھلنے ملنے میں آسانی، بیرون ملک کام کے مواقع، ذاتی مالی معاملات، رہائش اور ڈیجیٹل سہولیات سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر پرکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس سال کی کامیاب درجہ بندی میں مقامی لوگوں کی دوستانہ طبیعت اور زندگی کے نسبتاً کم اخراجات نے اہم کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر ٹاپ 10 میں شامل 7 ممالک بیرون ملک مقیم افراد کے لیے مقامی معاشرے میں گھلنے ملنے کے اعتبار سے بھی بہترین قرار پائے جبکہ 5 ممالک ذاتی مالی معاملات کے حوالے سے نمایاں رہے۔

بیرون ملک رہنے کے لیے ٹاپ 10 ممالک

ٹاپ 10 ممالک میں ترتیب وار پاناما، میکسیکو، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، برازیل، اسپین، سنگاپور، پرتگال، ملائیشیا اور لکسمبرگ شامل ہیں۔

پاناما: مسلسل تیسری بار نمبر ایک

پاناما نے مسلسل تیسرے سال دنیا کے بہترین ممالک برائے بیرون ملک مقیم افراد کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسے بیرون ملک کام کرنے اور ذاتی مالی معاملات کے دونوں شعبوں میں پہلی پوزیشن ملی۔

سروے میں پاناما میں مقیم 87 فیصد افراد نے کہا کہ وہ بیرون ملک اپنی زندگی سے خوش ہیں جبکہ عالمی سطح پر یہ رائے دینے والے اوسطاً 70 فیصد ہے۔ اسی طرح 90 فیصد افراد نے کہا کہ وہاں رہائش تلاش کرنا نسبتاً آسان ہے۔

ارجنٹائن سے 8 سال قبل پاناما کے کیریبین ساحل پر منتقل ہونے والے ایریل باریونیوو کا کہنا ہے کہ وہاں پہنچنے کے بعد ان کی نیند بہتر ہوگئی اور وہ خود کو زیادہ پرسکون اور موجودہ لمحے سے جڑا ہوا محسوس کرنے لگے۔

ان کے مطابق پاناما میں زندگی کی رفتار نسبتاً سست ہے۔ وہ سمندر کے قریب وقت گزارتے، باغ میں چہل قدمی کرتے اور پرندوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی سادہ معمول انہیں روزانہ یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے پاناما میں رہنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

کینیڈا سے رواں سال پاناما سٹی منتقل ہونے والی رضا کے مطابق وہاں گھر اور مشترکہ کام کی جگہوں پر انٹرنیٹ کی سہولت اچھی ہے جبکہ ڈالر استعمال ہونے کی وجہ سے بینکاری بھی آسان محسوس ہوتی ہے۔

تاہم پاناما میں زندگی ہر لحاظ سے بے مثال نہیں۔ جزیرے پر سامان کی ترسیل میں تاخیر اور اچانک تبدیل ہونے والا موسم بعض اوقات مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس کے باوجود باریونیوو کا کہنا ہے کہ زندگی کی نسبتاً سست رفتار اختیار کرنے کا فیصلہ انہیں آج بھی درست محسوس ہوتا ہے۔

میکسیکو: مقامی لوگوں سے گھلنے ملنے میں سب سے آگے

میکسیکو مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر رہا اور مقامی معاشرے میں گھلنے ملنے کے اعتبار سے دنیا کا بہترین ملک قرار پایا۔

میکسیکو میں 73 فیصد بیرونِ ملک مقیم افراد کا کہنا ہے کہ مقامی دوست بنانا آسان ہے جبکہ عالمی اوسط صرف 39 فیصد ہے۔

شکاگو سے میکسیکو کے شہر پورٹو ویارٹا منتقل ہونے والی کرسٹن ریکویا کے مطابق وہاں انہیں بیرونِ ملک پہلے سے کہیں بہتر دوست ملے۔ ان کے مطابق کمیونٹی کا مضبوط احساس اور نسبتاً کم اخراجات انہیں میکسیکو میں روکے ہوئے ہیں۔

تاہم میکسیکو کی ایک کمزور پوزیشن سلامتی ہے۔ 31 ممالک میں اسے اس شعبے میں 25ویں پوزیشن ملی۔ صرف 68 فیصد بیرونِ ملک مقیم افراد نے اپنی ذاتی سلامتی کو مثبت قرار دیا جبکہ عالمی اوسط 81 فیصد ہے۔

تھائی لینڈ: خوش ترین تارکین وطن اور کم اخراجات

تھائی لینڈ مجموعی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر رہا اور یہاں رہنے والے بیرونِ ملک مقیم افراد کو سروے میں دنیا کے سب سے زیادہ خوش افراد قرار دیا گیا۔

تھائی لینڈ میں 86 فیصد افراد نے بیرون ملک اپنی زندگی سے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 85 فیصد نے وہاں زندگی کے اخراجات کو مثبت قرار دیا۔

برطانیہ سے سنہ 2024 میں اپنے تھائی شوہر کے ساتھ تھائی لینڈ منتقل ہونے والی بیتھن جین ٹیپراپیتھ کا کہنا ہے کہ بنکاک میں ان کا پہلا اسٹریٹ فوڈ کھانا 4 افراد کے لیے تقریباً ایک ڈالر میں ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق وہ ایک سال کے لیے وہاں گئی تھیں لیکن صرف 2 ہفتوں میں انہیں اندازہ ہوگیا کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تھائی معاشرے میں مقامی روایات اور ثقافتی اصولوں کا احترام انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق جو بیرونِ ملک مقیم افراد مقامی ثقافت کو سمجھنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے تھائی لینڈ انتہائی خوشگوار جگہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بابر اعظم کی شرکت سے متعلق اہم خبر آگئی

متحدہ عرب امارات: روزگار اور سہولیات میں نمایاں

متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر چوتھی پوزیشن حاصل کی اور روزگار کے مواقع، کیریئر کے امکانات، ویزا اور دیگر ضروری سہولیات کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کے لیے نئی زندگی شروع کرنا اور کیریئر بنانا نسبتاً آسان ہے۔

دبئی اور امریکا کے درمیان رہنے والی امیج کنسلٹنٹ مشیل اسٹرلنگ کے مطابق دبئی میں روزمرہ زندگی انہیں زیادہ محفوظ، آرام دہ اور نسبتاً کم خرچ محسوس ہوتی ہے۔

رواں سال لندن سے دبئی منتقل ہونے والی نکیتا اوروگنتی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے دوستانہ ماحول اب بھی اسے پرکشش بناتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب کئی ممالک امیگریشن قوانین سخت کر رہے ہیں متحدہ عرب امارات میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے ماحول اب بھی نسبتاً سازگار ہے۔

وہ نئے آنے والوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ دبئی کو صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، مہنگے ہوٹلوں اور لگژری مراکز سے نہ دیکھیں بلکہ میٹرو میں رش کے اوقات میں سفر کریں، بر دبئی اور دیرہ کے روایتی علاقوں کا رخ کریں، دبئی کریک پر روایتی کشتی میں سفر کریں اور مقامی بھارتی، فلپائنی یا لبنانی ریستورانوں میں کھانا کھائیں۔

ان کے مطابق یہی دبئی کی وہ عام اور روزمرہ زندگی ہے جو اس شہر کے عالمی اور پرتعیش تاثر سے کہیں مختلف ہے۔

برازیل پہلی بار ٹاپ 5 میں

برازیل پہلی مرتبہ اس فہرست کے ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہوا اور 5ویں پوزیشن حاصل کی۔

برازیل کو خوشی، مقامی لوگوں سے دوستانہ تعلقات، ثقافت اور نئے آنے والوں کے لیے معاشرے میں جگہ بنانے کے حوالے سے بہترین نمبرز ملے۔

بارباڈوس سے ساؤ پاؤلو منتقل ہونے والے کلنٹ میننگ کے مطابق برازیل کے لوگوں نے انہیں اجنبی محسوس نہیں ہونے دیا۔ ان کے بقول کسی شخص سے پہلی مرتبہ جمعرات کو ملاقات ہو اور ہفتے تک اسے گھر میں باربی کیو پر مدعو کر لیا جائے، تو یہ وہاں کے لوگوں کے دوستانہ رویے کی بہترین مثال ہے۔

برازیل میں پرتگالی زبان کا عام ہونا بھی بعض بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے مثبت تجربہ ثابت ہوا۔ میننگ کے مطابق انگریزی کا محدود استعمال انہیں پرتگالی زبان سیکھنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے وہ زبان زیادہ تیزی سے سیکھ سکے۔

ساؤ پاؤلو میں 12 سال گزارنے والے کرس کوہل کے مطابق برازیل میں سب سے زیادہ متاثر کن چیز وہاں کے مقامی لوگ ہیں۔ ان کے بقول برازیلی باشندوں نے انہیں باہر سے آنے والا شخص سمجھنے کے بجائے شروع ہی سے معاشرے کا حصہ محسوس کرایا۔

پاکستانیوں کے لیے اس فہرست میں سب سے دلچسپ ملک کون سا؟

اس عالمی درجہ بندی میں متحدہ عرب امارات کا چوتھے نمبر پر آنا پاکستانی قارئین کے لیے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار اور کاروبار کے لیے متحدہ عرب امارات کا رخ کرتے ہیں اور دبئی، ابوظہبی اور دیگر شہروں میں پاکستانی کمیونٹی بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک بہتر زندگی کا فیصلہ صرف زیادہ آمدنی کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ محفوظ ماحول، رہائش، روزگار کے مواقع، مقامی لوگوں کا رویہ، زندگی کے اخراجات، صحت اور روزمرہ سہولیات بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

البتہ کسی ملک کی مجموعی عالمی درجہ بندی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر شخص یا ہر خاندان کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ رہائش، ویزا قوانین، زبان، روزگار کے شعبے اور ذاتی ترجیحات کے مطابق ایک ہی ملک کا تجربہ مختلف افراد کے لیے بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔