ڈکی بھائی سے شادی کیسے ہوئی؟ عروب نے دلچسپ راز بتا دیا

Calender Icon منگل 18 اگست 2026

سوشل میڈیا کی دنیا کی مقبول ترین جوڑی ڈکی بھائی اور عروب جتوئی(Aroob Jatoi) کو کون نہیں جانتا۔ دونوں کی ازدواجی زندگی خوشگوار انداز میں گزر رہی ہے۔ ان کی شادی کو کافی عرصہ گذر چکا ہے لیکن یہ ملاقات کیسے ہوئی اور پھر بات شادی تک کیسے پہنچی؟ اس کے بارے میں پہلی بار انہوں نے تفصیل سے بتایا ہے۔

عروب جتوئی نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ جب ڈکی بھائی روسٹ ویڈیوز بنایا کرتے تھے، اس وقت انہوں نے خود انہیں پیغام بھیجا تھا۔ دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی اور کچھ عرصے بعد ان کی ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات ہوئی۔

عروب کے مطابق اس ملاقات کے دوران انہوں نے ڈکی بھائی کے رویے پر خاص توجہ دی۔ انہوں نے دیکھا کہ ڈکی نہ صرف ان کے ساتھ بلکہ ریسٹورنٹ کے ویٹرز سمیت وہاں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی بہت احترام سے پیش آ رہے تھے۔

عروب نے بتایا کہ انہوں نے ڈکی بھائی کے مزاج اور رویے کو جانچنے کے لیے کئی بار انہیں آزمایا، لیکن وہ ہر بار ایک اچھے اور مہذب انسان ثابت ہوئے۔

دوسری جانب ڈکی بھائی کی کہانی تھوڑی مختلف نکلی۔ انہیں شروع میں عروب کی خوبصورتی پسند آئی تھی۔ ان کے بقول جب انہیں لگا کہ عروب بھی انہیں پسند کرتی ہیں تو انہوں نے اس تعلق کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

ڈکی بھائی نے بتایا کہ، میں نے صرف خوبصورتی پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ چپکے سے عروب کے خاندان اور بیک گراؤنڈ کی پوری تحقیق کی۔ جب دل مطمئن ہوگیا کہ وہ ایک اچھے اور شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں تو شادی کا پکا ارادہ کیا۔

عروب نے اپنی پسند کے بارے میں سب سے پہلے کس کو بتایا تھا ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں نے سب سے پہلے اپنی بہن سے اس کا ذکر کیا تھا۔ بہن نے مجھے سمجھایا کہ صرف ایک دو ملاقاتوں میں کسی شخص کو مکمل طور پر جانچنا آسان نہیں، لیکن مجے ڈکی میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جو پریشان کرتی۔‘

عروب کا کہنا تھا کہ، مجے اندر سے محسوس ہوتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ برا نہیں کیا ہے تو میرے ساتھ بھی برا نہیں ہوگا اور وقت نے میرے اس یقین کو درست ثابت کردیا۔

مزیدپڑھیں:ٹرمپ کے تیسری بار امریکی صدر بننے کا اشارہ: کیا پروفیسر جیانگ کی پیش گوئی سچ ہونے جا رہی ہے؟

ڈکی بھائی کے لیے بھی گھر والوں کو منانا اتنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے انہوں نے اپنی والدہ کو عروب کے بارے میں بتایا، لیکن ان کی والدہ انہیں اس وقت قدرے کم عمر اور جذباتی سمجھتی تھیں۔ انہیں خدشہ تھا کہ شاید ڈکی بھائی یہ فیصلہ جذبات میں آکر کر رہے ہیں۔

ڈکی بھائی نے بتایا کہ انہوں نے گھر میں اپنی خفیہ تحقیق کا ذکر نہیں کیا تھا، اس لیے والدہ کو ابتدا میں یہ فیصلہ جذباتی لگا۔ بعد میں وہ عروب سے گھر والوں کی ملاقات کروانے لے گئے۔ عروب سے بات چیت کے بعد ان کی والدہ کو بھی ڈکی بھائی کے انتخاب پر اطمینان ہوگیا۔

ادھرعروب کے والدین بھی ابتدا میں اس رشتے کے حق میں نہیں تھے۔ عروب کے مطابق ان کے والد کو خدشہ تھا کہ ڈکی بھائی چونکہ میڈیا سے وابستہ ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں انہیں چھوڑ دیں۔

تاہم عروب نے اپنے والدین کو سمجھایا اور بالآخر وہ اس رشتے پر رضامند ہوگئے۔ آج دونوں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان بھی آپس میں خوشگوار تعلق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔

یوں ایک عام سے سوشل میڈیا پیغام سے شروع ہونے والی کہانی پہلے دوستی، پھر پسند اور ایک دوسرے کو جانچنے کے مرحلے سے گزری اور بالآخر شادی تک جا پہنچی۔