جیل میں اور بھی بیمار قیدی ہیں جنہیں سرکاری اسپتال میں سہولیات دی جارہی ہیں، کیا فیصلے کا اطلاق سب پر ہوگا؟ وزیر قانون
سپریم کورٹ کے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر حکومت نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کیس کے حوالے سے عدالتی سماعت پر اہم گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکم نامے کے دیگر نکات پر بھی مشاورت کی گئی ہے، کیا سپریم کورٹ کا حکم تمام قیدیوں کے لیے ہو گا؟ کیونکہ جیلوں میں بہت سے قیدی ہیں جن کی صحت کے مسائل ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس حکم کا اطلاق تمام قیدیوں کیلیے ہوگا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے انہیں علاج کیلیے اسلام آباد کے الشفا اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی حکومت کو ہفتے میں ایک بار فیملی و وکیل سے ملاقات کروانے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں:آئی ایم سی اوور 60 ورلڈ کپ: پاکستان نے کینیڈا کو شکست دیدی
ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق کوئی بھی بات میڈیا پر نشر نہیں کی جائے گی جبکہ اس معاملے پر سیاست بھی نہیں کی جائے گی جبکہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ ساتھ ہوں گی۔













منگل 18 اگست 2026 

