حکومت پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کے حصول کی کوششیں تیز کر دی ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی امریکا سے دس ارب ڈالر(Dollars) کے حصول کی کوششوں کی تصدیق کر دی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کہا امریکا سے بڑی مالیاتی سپورٹ کے لیے ستمبر میں پاک امریکا ایکسچینج اسٹیبلائزیزیشن فیسلیٹی پر فیصلہ ہو جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا مالیاتی تعاون کے لیے ٹریژی ڈپارٹمنٹ امریکا کو ایکسچینج اسٹیبلائزیزیشن فیسلیٹی کی درخواست کی گئی ہے، امریکی محکمہ خزانہ کے پاس پاکستان کی درخواست موجود ہے اور اس پر ستمبر تک فیصلہ متوقع ہے۔
انھوں نے کہا 2004 کے بعد معیشت کو بی سے بی پلس کی ریٹنگ پر لے جائیں گے، امریکا کے ساتھ کریڈٹ لائن یا لون پر ڈیل نہیں ہے یہ کرنسی اسٹیبیلیٹی اور ایکسچینج اسٹیبیلیٹی فیسیلٹی ہوگی، امریکا سے فنڈ کی سہولت مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ 5، 7 اور 10 سال کے لیے لانگ ٹرم میچورٹی پر ہو سکتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا ہم یورو بانڈز، اسلامک سکوک سمیت مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، معاشی استحکام کے باعث باہمی معاہدوں کے تحت قرضوں کے رجحان کو کم کر رہے ہیں، اب باہمی معاہدوں کی بجائے مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ حاصل کی جائے گی، باہمی معاہدوں کی نسبت مارکیٹ بیسڈ معاہدوں کی میچورٹی ٹائم زیادہ ہے، قوی امید ہے کہ امریکا کے ساتھ ڈیل بہتر ہوگی جب کہ ڈیل میں کچھ ایشوز کے خدشات بھی ہیں۔
مزیدپڑھیں:وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان بیٹھ گئی، کم از کم 100 افراد ہلاک
انھوں نے مزید کہا مشکل وقت میں دوست ممالک نے باہمی معاہدوں میں مالیاتی سپورٹ فراہم کی ہے، گزشتہ دہائی کے دوران اور گزشتہ تین برسوں میں دوست ممالک کی سپورٹ قابل ستائش ہے، یہ خوش آیند ہے کہ دوست ملکوں کی جانب سے دو طرفہ قرضوں کی مدت کا دورانیہ بڑھایا جا رہا ہے، ہم دو طرفہ قرضوں کی مدت 10 سال تک لے جانا چاہتے ہیں، اور قرضوں کی میچورٹی ٹائم کو بڑھانے کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا امریکا کے ساتھ ڈیل فائنل کرنے کے لیے امریکی ایگزیم بینک، سی ڈی ایف اور دیگر اداروں سے بات چیت جاری ہے، چین کے ساتھ 1.3 ارب ڈالر کمرشل ری فنانسنگ پر بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی ری فنانسنگ کا پراسس مکمل کر لیا جائے گا۔













جمعرات 20 اگست 2026 

