متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) کے مرکزی رہنما زاہد ملک(Zahid Malik) نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی (PPP) کو کھلے مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی عوام کے سامنے ایم کیو ایم کے قائدین کا سامنا کرے اور وضاحت کرے کہ وہ پنجاب میں نئے صوبوں کی حمایت جبکہ سندھ میں اس کی مخالفت کیوں کرتی ہے۔
زاہد ملک نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ٹی وی چینلز کو ایک ’’گریٹ ڈیبیٹ‘‘ کرانی چاہیے تاکہ عوام کے سامنے دونوں جماعتوں کا مؤقف واضح ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیپلزپارٹی کا عوام کے سامنے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے الزام عائد کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے مخالف عناصر دراصل یہ نہیں چاہتے کہ عوام کا پیسہ عوام ہی پر خرچ ہو۔ ان کے بقول نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے عناصر عوام کے اربوں روپے کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
زاہد ملک نے کہا کہ پیپلزپارٹی سندھ اور بالخصوص کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں عوام کو درپیش مسائل کے باوجود صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہی۔
مزیدپڑھیں:جیمز بانڈ کراچی کے کس ریسٹورنٹ کے دیوانے تھے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی اپنی پارلیمانی قوت کو عوام کی بہتری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے ناکام بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام انتظامی امور کو عوام کے قریب لانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
زاہد ملک نے ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کو دعوت دی کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر براہ راست عوام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس معاملے پر کھلی بحث اور دلیل کے ساتھ اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لیے تیار ہے۔













جمعرات 20 اگست 2026 

