سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنااللہ

Calender Icon پیر 24 اگست 2026

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نےکہا ہےکہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیراطلاعات یا وزیر قانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے۔

جیو نیوزکے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگوکرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت یہ ہوئی ہےکہ ایک اسپتال کے بجائے دوسرے اسپتال میں چیک اپ ہوا ہے۔

مگر یہ اسپتال امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے تبدیل کیا گیا اور امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری داخلہ امور کی وزارت کی ہے، اس لیے وزارت داخلہ سپریم کورٹ میں پیش ہوگی اور وہ سپریم کورٹ میں ثبوت سامنے رکھیں گے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح طور پر کہا یہ کام نہیں کرنا لیکن پی ٹی آئی نے وہی کام کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنا پی ٹی آئی کے خمیر میں نہیں۔ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی سے شروع اور ان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے سواکس کو اختلاف ہے؟ سب ہمارے ساتھ بیٹھنےکو تیار ہیں۔

جماعت اسلامی کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج پرگفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو احساس کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنا چاہیے، اس میں عوام شامل نہیں، عوام نے جماعت اسلامی کے احتجاج کو مستردکیا ہے، جماعت اسلامی کو مشورہ ہے اس کام کو چھوڑ دیں، جب آپ کے احتجاج میں کوئی شامل ہی نہیں ہوا توکیسے اس کو عوامی احتجاج کہہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں خالد باٹھ کو بھی جانتا ہوں اور جن کسانوں کو لےکر آئے تھے ان کو بھی جانتا ہوں، لوگوں کو اطمینان ہےکہ ن لیگ کو لوگوں کے مسائل کا ادراک ہے، ہماری سفارتی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو مہنگائی اور دیگر مشکلات حل ہونےکے امکانات ہیں۔

اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سےگفتگو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں حکومت سازی میں کوئی دشواری نہیں، آج خصوصی نشستوں پر انتخاب ہوگیا ہے، ہمارے 6 امیدوار منتخب ہوئے ہیں، آزادکشمیر اسمبلی میں اب ہمارے ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ہے، آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی مظاہرین سے متلعق جو فیصلہ کرے وہ آزاد ہے، ہمیں امید ہے وہ لوگ آپس میں اپنے مسائل کو بہتر انداز میں حل کریں گے۔

ان کا کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئےکوئی الائنس نہیں بن سکتا، پی ٹی آئی کے خمیر میں ہی نہیں ہےکہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرے، وزیر داخلہ کو توہین عدالت والی درخواست میں رکھنا یا رکھنا یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

دوسری جانب کیپٹل ٹاک میں گفتگوکرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرام راجا کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست تحریک انصاف کی جانب سے دائر نہیں کی گئی بلکہ یہ درخواست ڈاکٹر عظمیٰ خان کی طرف سے دائرکی گئی ہے۔

سلمان اکرم راجا کے مطابق بانی تحریک انصاف کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا ہےکہ یہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ان کی مرضی ہےکہ توہین عدالت کی درخواست میں کس کو فریق بنانا ہے اورکس کو نہیں، محسن نقوی کے خلاف توہین عدالت کے ثبوت ان کے پاس نہیں ہیں اس لیے انہیں توہین عدالت کی پٹیشن میں فریق نہیں بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:شہری 1 لیٹر پیٹرول پر 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مارجنز ادا کرنے پر مجبور

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو عدالتی حکم کے منافی ہو، کسی قیدی کے حالات وہی ہیں جو بانی پی ٹی آئی کے ہیں تو نجی اسپتال منتقلی اس کا بھی حق ہے، بانی پی ٹی آئی کا 2 دسمبرکے بعد خاندان سے رابطہ منقطع کیا گیا، صحت سے متعلق خدشات ہیں، کیا کسی اور قیدی کے ساتھ ایسا کیا گیا کہ 10 ماہ سے ملاقات نہ کرائی گئی ہو۔