شدید خشک سالی، دریا ڈینیوب میں ڈوبے دوسری جنگ عظیم کے جرمن جنگی جہاز نمودار

Calender Icon پیر 24 اگست 2026

یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث ڈینیوب دریا میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہونے کے بعد دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے جرمن جنگی جہازوں کا ملبہ دوبارہ منظرِ عام پر آگیا۔

مشرقی سربیا کے علاقے پراہوو کے قریب پانی کم ہونے کے بعد کم از کم 20 جرمن جنگی جہازوں کے ملبے دکھائی دینے لگے ہیں۔ زنگ آلود ڈھانچے، ٹوٹے ہوئے مستول اور دیگر باقیات دریا کے کنارے سے بھی نظر آرہی ہیں۔

یہ جہاز دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے کا حصہ تھے، جنہیں جرمن فوج نے 1944 میں سوویت فوج کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے جان بوجھ کر ڈینیوب میں ڈبو دیا تھا۔

1944 میں سوویت فوج مشرقی محاذ پر تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی جبکہ جرمن فوج پسپائی اختیار کر رہی تھی۔ بحیرہ اسود سے تعلق رکھنے والے تقریباً 200 جرمن بحری جہاز علاقے میں پھنس گئے تھے اور ڈینیوب ان کے لیے فرار کا ممکنہ راستہ تھا۔

تاہم دریا کا ’آئرن گیٹس‘ کے نام سے مشہور تنگ اور خطرناک حصہ بحری جہازوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ ستمبر 1944 میں جرمن ریئر ایڈمرل پال ولی زیِب نے سوویت فوج کی پیش قدمی کے دوران 200 سے زائد بحری جہازوں کو ڈبونے کا حکم دیا۔

زیادہ تر جہاز کئی دہائیوں تک دریا کی تہہ میں دبے رہے۔ اگرچہ خشک سالی کے دوران ماضی میں بھی کچھ ملبہ ظاہر ہوتا رہا ہے، تاہم رواں موسم گرما میں شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث بڑی تعداد میں جہازوں کے ڈھانچے نمایاں ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ ملبہ صرف تاریخی باقیات نہیں بلکہ ممکنہ خطرہ بھی ہے، کیونکہ بعض جہازوں میں اب بھی گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد موجود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے باعث یہ جہاز رانی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارتی کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا

سربیا نے دریا کی تہہ سے بعض جہازوں کو نکالنے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے تقریباً 3 کروڑ یورو کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے، تاہم دریا کی تہہ کو محفوظ طریقے سے صاف کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو ملبے کے قریب جانے کے بجائے محفوظ فاصلے سے دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔