27 ستمبر کو اسلام آباد فتح نہیں اپنے حقوق مانگنے آ رہے ہیں : بیرسٹر گوہر

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے اوراچھی بات ہے کہ عدالتیں ہمیں انصاف دینا شروع کریں ، ہمیں عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد چاہیے، 320 دن ہوئے ہماری بانی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

بیرسٹرگوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں آ رہے ، ہمیں انصاف کہیں سے نہیں ملا اپنےحقوق مانگنے آرہے ہیں،27 مارچ کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لیڈ کریں گے ، ہم حقوق کیلئے آرہے ہیں پرامن ہوں گےکوئی تشدد نہیں ہوگا،ہم ریاست یا صوبے کے وسائل کو استعمال نہیں کریں گے۔

اڈیالہ جیل کے گیٹ توڑنے نہیں آ رہے چاہتے ہیں ہمیں انصاف دیا جائے،ہمارے مطالبات منظور ہونے چاہیے ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، ہم عدالتوں میں گئے،پارلیمنٹ،سینیٹ میں آواز اٹھائی لیکن کسی نےنہیں سنی، بانی کو7 سزائیں ہوئیں، 300کیسز بنائے گئے3 سال سے جیل میں ہیں اب بس ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو اب ہاتھ اٹھانا چاہیے ، اعتماد کی فضا بحال کرنے کیلئے بانی کو ہسپتال شفٹ کرکےعلاج کرایا جائے،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے چاہتے ہیں ملک ترقی کرے، پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مات دی، ہمارا احتجاج کا اعلان پاک، سعودی اورترکیہ کے پیکٹ سے پہلے کا ہے، ہم نے پاکستان کی اہم سفارتی کامیابیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

جب پاکستان میں ایران امریکا مذاکرات ہوئے تو ہم نے اپنا جلسہ منسوخ کر دیا، ایران چین کے وفود آئے ہم اسمبلی میں ساتھ بیٹھے، بدقسمتی ہےدوسری جانب سےکوئی پیش رفت کیلئے تیار نہیں، اگر ہمارے دروازے بند ہوں گے تو سسٹم سکڑنے پر آئے گا، آپ خود کہتے ہیں سسٹم کو ری سیٹ چاہیے، اگر آپ ری سیٹ کیلئے تیار نہیں تو عوام خود ری سیٹ کردےگی، بہتری اسی میں ہے تناؤ کو ختم کیا جائے، سپریم کورٹ آرڈرپرعملدرآمد نہیں ہوا لیکن سارا پاکستان خوش تھا۔

ان کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ آرڈر پر آخری لمحے میں جنہوں نے عمل نہیں کیا انہوں نے اچھا نہیں کیا، بانی کے علاج پر ساری اپوزیشن ہمارے ساتھ ہے، احتجاج پر بھی ہم تمام جماعتوں کو ساتھ چلنے کیلئے کہیں گے، بشریٰ بی بی کو ایک کیس میں اندر رکھا گیا ہے یہ غیر انسانی سلوک ہے، اپوزیشن اتحاد اسمبلی میں حکومت کواکاونٹیبل ٹھہرائے گی۔

، باہر بھی عوامی مسائل پر اکٹھے چلیں گے، آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمارا موقف واضح ہے، عوامی مطالبات پر بات چیت ہونی چاہیے، ہم ریاست مخالف یا پاکستان مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں،حکومت کی جانب سے بات چیت کیلئےابھی کوئی اشارہ نہیں آیا، ہم سمجھتے ہیں مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے، پولیٹیکل ڈائیلاگ ضروری ہے، اس نہج پرہم اس لیے پہنچے ہماری بات نہیں سنی جارہی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ آرڈر پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا ملاقاتیں کیوں بند ہیں، پی ٹی آئی نے ہمیشہ ڈونیشن لی ہے ہمارے اکاؤنٹ کلیئر ہیں، جو بھی فنڈنگ آتی ہے وہ اسٹیٹ بینک سے منظورہے، تمام ڈونیشن بینکنگ چینل سےآتی ہے ہمارا آڈٹ ہوتا ہے، ہم سوشل میڈیا پرکسی صحافی کی ٹرولنگ کی حمایت نہیں کرتے،

مزید پڑھیں:’’مکہ دفاعی معاہدہ‘‘ مزید ممالک کی شمولیت کا فیصلہ مینڈیٹ پر ہو گا: خواجہ آصف

صحافی اپنی رائے عوام کے سامنے رکھنے میں آزاد ہیں، بانی کے بچوں کا حق ہے وہ واٹس ایپ پر ان سے بات کریں، بانی کے بچوں کے حوالے سےان کی فیملی زیادہ بات کرتی ہے، احتجاج کرنا ہماری مجبوری ہے اگر ڈائیلاگ ہوگا تو ہم تیار ہیں، بانی نے کبھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا ہے، حالیہ دنوں میں میری بانی پی ٹی آئی سےکوئی ملاقات نہیں ہوئی ، میری بانی سے آخری ملاقات 15 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی۔