پاکستان کی معروف کلاسیکل رقاصہ اور استاد اندو مِتھا (Indu Mitha) 97 برس کی عمر میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں انتقال کرگئیں۔ وہ اپنی پوری زندگی فنونِ لطیفہ، کلاسیکی رقص اور نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کرنے کے باعث پاکستان کے ثقافتی منظرنامے کی ایک نمایاں شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی وفات کی تصدیق ان کی بیٹی اور معروف ڈانسر و کوریوگرافر تریما مِتھا نے کی۔ اندو مِتھا 31 اگست 2026 کو ڈبلن میں انتقال کرئیں۔
اندو مِتھا کا اصل نام اندو چٹرجی (Indu Chatterjee) تھا اور وہ 1929 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک بنگالی برہمن خاندان سے تھا جس نے بعد ازاں عیسائیت اختیار کرلی تھی۔ تقسیم ہند کے دوران ان کا خاندان لاہور سے دہلی منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی (Delhi University) سے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اسی عرصے میں بھارت کے جنوبی علاقے تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے معروف کلاسیکی رقص بھارت ناٹیم (Bharatanatyam) کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی۔
اندو مِتھا نے بھارت میں رقص کی تدریس بھی کی، تاہم 1951 میں کیپٹن ابوبکر عثمان مِتھا (Aboobaker Osman Mitha) سے شادی کے بعد پاکستان واپس آگئیں۔ ان کے شوہر بعد میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ پاکستان آنے کے بعد اندو مِتھا نے اپنے شوہر کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور جہاں بھی رہیں، وہاں کلاسیکی رقص پیش کرنے اور اسے سکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
ان کی فنی خدمات کا دائرہ صرف رقص کی پرفارمنس تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے لاہور گرامر اسکول (Lahore Grammar School) میں رقص کی تعلیم دی اور بعد ازاں اپنی اکیڈمی ’مضمونِ شوق‘ (Mazmoon-i-Shauq) قائم کی، جہاں انہوں نے کئی دہائیوں تک نوجوانوں کو کلاسیکی رقص کی تربیت دی۔ ان کے شاگردوں میں ایسے متعدد فنکار شامل ہوئے جنہوں نے بعد میں پاکستان کے ثقافتی اور فنونِ لطیفہ کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اندو مِتھا کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے بھارت ناٹیم کو روایتی دائرے تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اس کلاسیکی رقص میں ایسے موضوعات شامل کیے جو پاکستانی معاشرے اور ان کے ناظرین سے براہِ راست جڑتے تھے۔ انہوں نے اردو شاعری اور موسیقی کو اپنی کوریوگرافی میں جگہ دی اور اس قدیم رقص کو اس کی روایتی مذہبی، لسانی اور ثقافتی حدود سے آگے لے جانے کی کوشش کی۔ ان کے فن میں سیکولر اور نسوانی موضوعات بھی نمایاں ہوئے۔
وہ ہزاروں نوجوان فنکاروں کی استاد اور سرپرست رہیں۔ پاکستان میں فنونِ لطیفہ کو اکثر نظرانداز کیے جانے کے باوجود اندو مِتھا نے فنکاروں کے حقوق اور فن کی اہمیت کے لیے آواز بلند کی۔ ان کے ساتھی فنکاروں کے مطابق وہ عمر بڑھنے کے باوجود فن سے اپنی وابستگی کم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئیں بلکہ بطور فنکار، استاد، کہانی کار اور ناظر مسلسل ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ رہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہور سمیت پنجاب بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور جبری لوڈشیڈنگ جاری
اندو مِتھا کی زندگی اور فن پر ان کے شاگردوں نے ’ہاؤ شی مووز‘ (How She Moves) کے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جس میں کلاسیکی رقص اور موسیقی کے لیے ان کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ 2021 میں سامنے آنے والی اس دستاویزی فلم میں انہیں اپنے شاگردوں کے ساتھ آخری رقص پیشکش کی تیاری کرتے دکھایا گیا تھا۔
اسلام آباد میں تھیٹر والے (Theatre Wallay) نے بھی 2015 کے تھیٹر ڈرامے ’دس اسٹیند ڈان‘ (This Stained Dawn) میں تقسیم ہند سے متعلق کہانیوں کے ذریعے اندو مِتھا کی زندگی کے کچھ پہلو پیش کیے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے والد پروفیسر چٹرجی (Professor Chatterjee) کی یادیں اور واقعات بھی شیئر کیے، جو گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے استاد رہے تھے۔
اندو مِتھا کو فنونِ لطیفہ کے لیے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 2020 میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے بھی نوازا۔ سرکاری سول ایوارڈز کی فہرست میں ان کا نام رقص اور کوریوگرافی کے شعبے میں شامل تھا۔
تھیٹر والے کی ڈائریکٹر فضا حسن نے اندو مِتھا کو ایک ایسے فنکار کی مثال قرار دیا جو عمر یا حالات کو اپنے فن سے وابستگی کم کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ان کے مطابق اندو مِتھا نے ایسے وقت میں بھی فن اور ثقافتی سرگرمیوں کو زندہ رکھا جب فنون اور ثقافتی اداروں کے لیے حالات مشکل تھے۔
آرٹ گیلرسٹ ارجمند فیصل نے بھی اندو مِتھا کی شخصیت کو ایک غیر معمولی تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گرد موجود لوگوں میں گرمجوشی، مثبت توانائی اور ذہنی و روحانی سکون پیدا کرتی تھیں۔
اندو مِتھا کا فنی ورثہ ان کی بیٹی تریما مِتھا (Tehreema Mitha) کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے، جو خود بھی ڈانسر اور کوریوگرافر ہیں۔ تریما نے اپنی والدہ کی وفات کی اطلاع 31 اگست کو سوشل میڈیا پر دیتے ہوئے انہیں اپنی محبوب والدہ، نانی اور استاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے اپنی محبت اور رقص کی خوشی بے شمار لوگوں میں بلاشرط تقسیم کی۔
تریما مِتھا کے مطابق ان کی والدہ نے نہ صرف انہیں محبت دی بلکہ رقص سے وابستگی بھی منتقل کی۔ یوں اندو مِتھا کا انتقال اگرچہ پاکستان کے کلاسیکی رقص کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ان کی شاگردوں، ان کی بیٹی اور ان کے تخلیقی کام کے ذریعے ان کا فن اور فکری ورثہ آئندہ نسلوں تک پہنچتا رہے گا۔













بدھ 2 ستمبر 2026 

