چین میں ایک شخص نے ایسا انوکھا کاروبار شروع کیا ہے جس کے بارے میں سن کر شاید اکثر لوگ حیران رہ جائیں۔ 32 سالہ ژانگ شیاؤچیاؤ نے لوگوں کی پیٹھ اور جسم کے مختلف حصوں پر خارش (Itching)کرنے کی سروس شروع کی ہے۔
اس کام کی خاص بات یہ ہے کہ لوگ اس انوکھی سروس کے لیے باقاعدہ پیسے ادا کرتے ہیں اور تربیت یافتہ عملہ خصوصی لمبے اور نوکیلے ناخنوں کی مدد سے انہیں کھجاتا ہے اور اس سے اچھی خاصی کمائی بھی ہو رہی ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ژانگ نے جنوبی چین کے شہر شینزن میں اس سروس کے دو مراکز قائم کیے ہیں، جنہیں ’سوما‘ کے نام سے چلایا جا رہا ہے۔ ان میں سے پہلا مرکز مئی میں باؤآن ضلع میں کھولا گیا، جبکہ ایک ماہ بعد دوسرا مرکز فُوتیان ضلع میں قائم کیا گیا۔
ژانگ شیاؤ چیاؤ کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ روزمرہ کی زندگی کے شدید دباؤ اور ذہنی تھکن کا شکار رہتے ہیں اور اس انوکھے طریقے سے انہیں ذہنی سکون اور بہتر نیند حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے شہروں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس سروس کی بہت زیادہ مانگ ہے اور لوگ اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
یہ سروس کسی مساج سینٹر کی طرح فراہم کی جاتی ہے۔ گاہک آرام دہ بستر پر لیٹ جاتے ہیں اور عملہ خاص طور پر تیار کیے گئے ناخنوں کی مدد سے ان کی پیٹھ یا جسم کے ان حصوں پر ہلکے ہاتھ سے خارش کرتا ہے جہاں انہیں زیادہ سکون محسوس ہوتا ہے۔
ایک گھنٹے کی اس سروس کی قیمت 300 چینی یوآن یعنی 40 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ دکان پر آنے والوں میں مردوں کی تعداد ستر فیصد کے قریب ہے جبکہ خواتین بھی اس سروس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ژانگ کے مطابق بعض مستقل گاہکوں نے انہیں بتایا کہ یہ تجربہ روایتی مساج کے مقابلے میں بھی زیادہ سکون دینے والا محسوس ہوتا ہے۔
ژانگ کے مطابق اس کاروبار کا مقصد لوگوں کو سکون دینا، ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد کرنا اور انہیں بہتر نیند کا احساس دلانا ہے۔ بعض اوقات عملہ جسم کے کسی خاص حصے پر خارش کرتا ہے جس سے گاہکوں کو گدگدی محسوس ہوتی ہے اور وہ ہنسنے بھی لگتے ہیں۔
اس عجیب و غریب کاروبار کا خیال ژانگ کو کیسے آیا، اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ خیال انہیں ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد آیا۔ گزشتہ سال انہوں نے ایک مختصر ویڈیو دیکھی جس میں ایک خاتون اپنے شوہر کی پیٹھ کھجا رہی تھی۔ ویڈیو کے کمنٹس میں کئی لوگ مذاقاً کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی ان کے لیے یہ کام کرے تو وہ اس کے پیسے دینے کے لیے تیار ہیں۔
مزیدپڑھیں:نیپال سیلاب: انجینیئرز کا واٹس ایپ گروپ کیسے ریسکیو آپریشن میں مدد کر رہا ہے؟
اس ویڈیو نے ژانگ کو اپنے بچپن کی یاد دلا دی جب ان کے والد رات کوان کی پیٹھ کھجاتے تھے اور انہیں سکون کی نیند سلا دیا کرتے تھے۔ یہی پرانی یاد بعد میں اس عجیب و غریب کاروبار کے خیال کی بنیاد بن گئی۔
ژانگ کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں پہلے سے کوئی باقاعدہ صنعت موجود نہیں تھی، اس لیے انہیں خود ہی یہ طریقے سیکھنے اور آزمانے پڑے کہ کس انداز میں خارش کرنے سے لوگوں کو زیادہ سکون ملتا ہے۔
ژانگ کے لیے یہ کامیابی اتنی آسان نہیں رہی کیونکہ اس سے پہلے وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سال میں سات نوکریاں بدل چکے تھے اور ان کے دو آن لائن کاروبار اور سوشل میڈیا کا کام بھی ناکام ہو چکا تھا۔ تاہم اس بار ان کی یہ انوکھی سوچ کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ اب وہ اپنے اس کام کو مزید پھیلانا چاہتے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ پورے چین میں 100 ایسی دکانیں کھولیں تاکہ پیٹھ کھجلانے کے اس ہنر کو ایک باقاعدہ پیشہ بنایا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کاروبار نے آمدنی بھی پیدا کرنا شروع کردی ہے۔ ژانگ کے مطابق دونوں مراکز مل کر ہر ماہ تقریباً ایک لاکھ چینی یوآن، یکی مجموعی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار اب اخراجات پورے کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر منافع کی جانب جا رہا ہے۔
فی الحال ژانگ کے لیے یہ تجربہ کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بچپن کی ایک عام سی یاد سے شروع ہونے والا یہ خیال اب ان کے لیے ایک ایسا کاروبار بن چکا ہے جسے وہ چین بھر میں پھیلانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔













جمعہ 4 ستمبر 2026 

