امریکی مصنفہ، صحافی، مقرر اور خواتین کے حقوق کی معروف کارکن گلوریا اسٹائنم(Gloria Steinem) 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کی فاؤنڈیشن نے کی۔ اسٹائنم نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک خواتین کے مساوی حقوق، شہری آزادیوں اور تولیدی حقوق کے لیے کام کیا اور امریکا میں جدید حقوقِ نسواں کی تحریک کی نمایاں آواز بنیں۔
رائٹرز کے مطابق گلوریا اسٹائنم 1960 کی دہائی کے اواخر میں خواتین کے حقوق کی تحریک میں نمایاں ہوئیں۔ وہ خواتین کے لیے مخصوص میگزین ’مس میگزین‘ کی شریک بانی اور بعد میں اس کی مشاورتی مدیر بھی رہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے اس دور میں خواتین کو درپیش ایسے مسائل پر گفتگو کو فروغ دیا جنہیں عام طور پر نظر انداز کیا جاتا تھا، جن میں جنسی امتیاز، مساوی اجرت، گھریلو تشدد اور اسقاط حمل کے حقوق شامل تھے۔
فلم اور تھیٹر کی ہدایت کار جولی ٹیمر نے 2017 میں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسٹائنم کو مثبت تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا سفر ایک ایسی امریکی رہنما کا سفر ہے جو ہر شخص سے بات کر سکتی ہیں۔ ٹیمر نے 2020 میں ”دی گلوریاز“ نامی فلم کی ہدایت کاری بھی کی، جس میں اسٹائنم کی زندگی اور جدوجہد کو پیش کیا گیا۔ یہ فلم اسٹائنم کی 2015 میں شائع ہونے والی سوانح عمری ”مائی لائف آن دی روڈ“ پر مبنی تھی۔
اسٹائنم نے اپنی سماجی سرگرمیوں کو محض سیاسی جدوجہد کے بجائے معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ وہ خواتین کی زندگیوں اور تجربات کو سننے اور انہیں سامنے لانے کو اہم سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ان کی کہانیاں سننا ضروری ہے۔
1971 میں اسٹائنم نے سابق امریکی ارکانِ کانگریس بیلا ابزگ، شرلی چشولم اور مصنفہ فریڈن کے ساتھ مل کر’نیشنل ویمنز پولیٹیکل کاکس‘ قائم کیا۔ فریڈن کی 1963 کی کتاب ”دی فیمِنِن مِسٹیک“ نے بھی امریکا میں خواتین کے حقوق کی دوسری بڑی لہر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اسٹائنم نے خواتین اور سیاسی و سماجی حقوق سے متعلق کئی دیگر تنظیموں کی بنیاد رکھنے میں بھی کردار ادا کیا، جن میں ’کولیشن آف لیبر یونین وومن، وومنز میڈیا سینٹر، ووٹرز فار چوائس‘ اور ’مس فاؤنڈیشن فار وومن‘ شامل ہیں۔
2013 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے انہیں ’پریزیڈینشل میڈل آف فریڈم‘ سے نوازا، جو امریکا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے۔
اسٹائنم اپنے مخصوص سنہری بالوں اور ایوی ایٹر چشمے کے باعث بھی عوام میں پہچانی جاتی تھیں اور خواتین کے حقوق کی تحریک کی ایک نمایاں علامت بن گئی تھیں۔ تاہم وہ اس تحریک کو صرف سفید فام خواتین تک محدود رکھنے کی مخالف تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ نسوانی حقوق کی جدوجہد میں مختلف نسلوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تجربات کو شامل کیا جانا چاہیے۔ وہ خاص طور پر سیاہ فام خواتین کی جدوجہد سے متاثر ہونے کا ذکر کرتی تھیں۔
گلوریا اسٹائنم 25 مارچ 1934 کو امریکی ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو میں پیدا ہوئیں۔ وہ دو بہنوں میں چھوٹی تھیں۔ ان کے والد نوادرات کی خرید و فروخت کرتے تھے اور کام کی نوعیت کے باعث خاندان کو بار بار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ تقریباً ساتویں جماعت تک باقاعدگی سے اسکول نہیں جا سکیں۔
جب وہ 11 برس کی تھیں تو ان کے والدین الگ ہوگئے۔ اس کے بعد اسٹائنم نے اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی دیکھ بھال بھی کی، جو ذہنی صحت کے مسائل اور ڈپریشن کا شکار تھیں۔ اسٹائنم کے مطابق اس تجربے نے معاشرتی ناانصافی، شادی اور خواتین کی آزادی کے بارے میں ان کے خیالات پر گہرا اثر ڈالا۔
اسمتھ کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے صحافت میں فری لانس کام شروع کیا۔ 1963 میں انہوں نے ایک صحافتی تحقیق کے لیے 11 دن تک پلے بوائے کلب میں ”بنی“ کے طور پر کام کیا۔ بعد میں ’شو میگزین‘ میں شائع ہونے والی ان کی دو حصوں پر مشتمل رپورٹ ”آ بنیز ٹیل“ نے کلب میں کام کرنے والی خواتین کی کم اجرت اور امتیازی سلوک کو اجاگر کیا۔ یہ رپورٹ بعد میں 1985 میں ایک ٹی وی فلم کی بنیاد بھی بنی۔
1968 میں اسٹائنم نے نیویارک میگزین کے قیام میں مدد کی۔ اسی دوران ان کا مضمون ”آفٹر بلیک پاور، وومنز لبریشن“ شائع ہوا، جس نے انہیں خواتین کے حقوق کی ایک اہم آواز کے طور پر مزید نمایاں کیا۔
مزیدپڑھیں:امریکی افواج کی مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی کی مدت میں ایک سال اضافے کی تیاری
تاہم اسٹائنم کے مطابق ان کی عملی طور پر فعال نسوانی جدوجہد اگلے سال اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے نیویارک کے ایک چرچ میں اسقاط حمل کے حق میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی۔ وہ خود بھی 22 برس کی عمر میں لندن میں ایک ایسے وقت میں اسقاط حمل کرا چکی تھیں جب امریکا میں یہ عمل قانونی نہیں تھا۔ اس ذاتی تجربے نے بھی خواتین کے تولیدی حقوق کے معاملے پر ان کے مؤقف کو متاثر کیا۔
1971 میں قائم ہونے والے ’مس میگزین‘ نے خواتین سے متعلق روایتی موضوعات سے ہٹ کر سماجی اور قانونی مسائل کو نمایاں کیا۔ میگزین نے اسقاط حمل، مساوی اجرت، جنسی امتیاز اور گھریلو تشدد جیسے معاملات پر کھل کر بات کی۔ اس کے ایک ابتدائی شمارے میں 52 ایسی خواتین کے نام شائع کیے گئے جنہوں نے اسقاط حمل کا تجربہ کیا تھا، جن میں خود اسٹائنم بھی شامل تھیں۔ اس مہم کا مقصد امریکا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کی حمایت کرنا تھا، جو بعد میں 1973 کے رَو وی وے فیصلے کے پس منظر میں ہونے والی بڑی قومی بحث کا حصہ بنی۔
اسٹائنم شادی کے ادارے میں موجود بعض روایتی کرداروں پر بھی تنقید کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر سے باہر خواتین کی مساوات اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک گھر کے اندر مرد بھی ذمہ داریوں میں برابر شریک نہ ہوں۔
انہوں نے اپنی زندگی میں اولاد نہیں کی اور 66 برس کی عمر میں جنوبی افریقی کاروباری شخصیت اور ماحولیاتی کارکن ڈیوڈ بیل سے شادی کی۔ ڈیوڈ بیل اداکار کرسچن بیل کے والد تھے۔ شادی کے وقت اسٹائنم نے کہا تھا کہ اس فیصلے سے ان کے نزدیک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نسوانیت کا مطلب کسی ایک طرزِ زندگی پر اصرار نہیں بلکہ زندگی کے مختلف مراحل میں اپنی مرضی کے مطابق انتخاب کرنے کی آزادی ہے۔ ڈیوڈ بیل 2003 میں دماغ کے سرطان کے باعث انتقال کر گئے۔
اسٹائنم نے عمر کے آخری حصے تک اپنی تحریری اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں 1986 میں شائع ہونے والی ”میرلن: نورما جین“، ”ریوولوشن فرام ودِن: اے بُک آف سیلف-اِسٹیم“ اور مختلف مضامین کے مجموعے شامل ہیں۔
انہوں نے ٹیلی ویژن اور دستاویزی فلموں کے شعبے میں بھی کام کیا۔ 1993 میں ایچ بی او کی بچوں پر تشدد سے متعلق ایمی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ”ملٹی پل پرسنالٹیز: دی سرچ فار ڈیڈلی میموریز“ کے تصور اور بیانیے میں ان کا کردار تھا۔ انہوں نے ”بیٹر آف ڈیڈ“ نامی فلم بھی تیار کی اور خواتین کے خلاف تشدد کے موضوع پر ”ویمن“ کے نام سے دستاویزی سیریز کی میزبانی کی۔
مصنفہ کیرولین ہیلبرن، جنہوں نے 1995 میں اسٹائنم کی سوانح عمری ”ایجوکیشن آف اے وومن: دی لائف آف گلوریا اسٹائنم“ لکھی، اور انہیں خواتین کی خوبصورتی اور حقوق کی انقلابی جدوجہد، دونوں کی نمایاں علامت قرار دیا تھا۔
گلوریا اسٹائنم کی زندگی امریکی معاشرے میں خواتین کے قانونی، سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے جاری ایک طویل جدوجہد سے جڑی رہی۔ ان کے خیالات اور سرگرمیوں نے جہاں خواتین کے حقوق کی تحریک کو نئی سمت دی، وہیں ان کے بعض سیاسی اور سماجی مؤقف پر اختلاف بھی کیا گیا۔ اس کے باوجود نصف صدی سے زیادہ عرصے تک امریکی عوامی زندگی میں خواتین کے حقوق کے موضوع پر ان کی آواز نمایاں رہی۔













جمعہ 4 ستمبر 2026 

