میر رضا (Mir raza)جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ روز کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس میں ڈرائیور احسان اللہ سے متعلق اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے کے مطابق کارروائی کے دوران میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد عبداللہ، احمد، ڈرائیور احسان اللہ اور ڈی ایس پی ارشد آفریدی کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
ڈرائیور احسان اللہ نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے اس سے گاڑی واپس لے لی ہے، جبکہ جس مکان میں وہ رہائش پذیر تھا، اس کے مالک مکان نے بھی اسے گھر سے نکال دیا ہے۔
احسان اللہ کے مطابق وہ اس وقت فیروزآباد تھانے میں رہنے پر مجبور ہے۔ کمیشن نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کو ہدایت کی کہ وہ کمپنی انتظامیہ اور مکان مالک سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات دور کریں۔
تحریری حکم نامے میں ڈی ایس پی سراج لاشاری کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ کمپنی اور مکان مالک کو یقین دہانی کرائی جائے کہ میر رضا علی کیس کے سلسلے میں ان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہیں کی جائے گی۔
کمیشن نے قرار دیا کہ احسان اللہ اس کیس میں مشتبہ شخص نہیں بلکہ وہ شخص ہے جس نے میر رضا علی کی تلاش کے دوران ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ اہل خانہ کی مدد کرنے پر نظام کی جانب سے احسان اللہ کے ساتھ انعام کے بجائے ملزم جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے اور بظاہر اسے مدد کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:اسلام آباد:ایف سیون ون میں کھلا مین ہول شہریوں کیلئے خطرہ بن گیا
دوسری جانب احمد نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سندھ ریونیو بورڈ کی جانب سے جاری نوٹس کی نقل اور آن لائن ڈلیوری ایپ سے ہونے والی ادائیگیوں کی رسیدیں بھی آئندہ کارروائی میں جمع کرائیں گے۔
کمیشن نے وقت کی کمی کے باعث حیثم، رازق اور ایس ایچ او عدیل افضل کو آئندہ سماعت پر حاضری کا پابند کردیا۔
اس کے علاوہ تھانہ گلستان جوہر کے ایس ایچ او کامران قریشی اور کورٹ محرر زیشان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق میر رضا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 7 ستمبر کو صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا، جس میں کیس سے متعلق مزید کارروائی اور بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔













جمعہ 4 ستمبر 2026 

