فیصل آباد :غیر تقسیم شدہ پنجاب کی زرخیز پٹی جھنگ، فیصل آباد اور ساہیوال—کی لوک تاریخ میں کئی ایسے فنکار گزرے ہیں جنہیں کسی باقاعدہ اکیڈمی یا استاد کی سرپرستی تو حاصل نہ ہو سکی، لیکن ان کی قدرتی آواز نے سمعی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔جس کی لوک گائیکی اور سوزِ آواز نے 1920ء کی دہائی میں خطے کے لوگوں کو مبہوت کر رکھا تھا۔ انھی میں سے ایک نمایاں اور تاریخ کے اوراق میں لگ بھگ گم ہو جانے والا نام عمداں ماچھن (عمدہ بی بی) کا ہے۔ان کا اصل نام عمدہ بی بی تھا۔ پہلی بار جب انہوں نے گایا تو کسی نے تبصرہ کیا کہ عمداں ماچھن نے کیا خوب گایا ہے۔ ان کی زندگی کے مصائب اور چہرے کے دکھ کو دیکھ کر لوگوں نے انہیںدُکھی ماچھن کہنا شروع کر دیا، جو وقت کے ساتھ ساتھ بگڑ کر مقامی زبان میںدُکی ماچھن بن گیا۔
عمداں ماچھن کی پیدائش اور ابتدائی پرورش پنجاب کی ذات پات پر مبنی درجہ بندی کے ماحول میں ہوئی۔ بچپن میں وہ دریا کے کنارے اور دیہات کی گلیوں میں گھومتے ہوئے معاشرتی تفریق اور طبقاتی اونچ نیچ کے موضوعات پر درد بھرے بول گایا کرتی تھیں۔۔عمداں ماچھن پنجاب کے لوک ورثے اور خاص طور پر ضلع جھنگ کی ایک ایسی گمنام لیکن سحر انگیز لوک گلوکارہ تھیں جن کی آواز کا سوز اور لمبی ہیک سننے والوں کے دلوں کو پگھلا دیتی تھی۔وہ بنیادی طور پر اونچی سُر میںدوہڑےاورچھند گایا کرتی تھیں۔ عمداں ماچھن کی گائیکی کی سب سے بڑی خاصیت ان کی بے پناہ لمبی ہیک تھی۔وہ بظاہر جسمانی طور پر نحیف و کمزور اور ایک انتہائی پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن جب وہ کان پر ہاتھ رکھ کر گانا شروع کرتیں تو سروں کی ملکہ بن جاتی تھیں۔ میلوں اور مذہبی اجتماعات کے موقع پر جہاں نامور گوئے میاں محمد بخش اور پیر وارث شاہ کا کلام گاتے تھے، وہاں عمداں لوگوں کو پانی پلانے کی خدمت انجام دیتی۔ اسی دوران اس نے سن سن کر ان عظیم صوفیاء کا کلام حفظ کر لیا اور بغیر کسی باقاعدہ موسیقی کی تربیت کے گانا شروع کر دیا۔ 1920ء کی دہائی تک وہ خطے کی مقبول ترین لوک فنکار بن چکی تھیں، جو مائیک اور لاؤڈ سپیکر کے بغیر صرف اپنے گلے کے زور پر ہزاروں کے جمعِ غفیر کو گھنٹوں ہیر وارث شاہ سناتی اور سیکڑوں لوگ ان کی آواز کا سوز سن کر زار و قطار رو پڑتے۔
لوک روایات کے مطابق عمداں کی آواز میں اس شدید سوز اور درد کی بنیادی وجہ ان کے جوان بھائی کی ناگہانی موت تھی، جس کے صدمے نے ان کی شخصیت کو گہرا اثر پہنچایا۔ وہ اپنے بیشتر کلام اور گانوں میں اپنی بھابھی چھموں کو مخاطب کر کے گایا کرتی تھیں اور یہی دلی صدمہ آگے چل کر ان کی پیشہ ورانہ ریکارڈنگز اور پہچان کا ذریعہ بنا۔
ان کے فن کی گونج جب کوٹ خان کے نواب عنایت خان کوٹیا تک پہنچی تو انہوں نے عمداں ماچھن کے فن کی قدر کی۔نواب صاحب نے ان کی سرپرستی کی اور ان کے اس نایاب ٹیلنٹ کو نجی محفلوں اور درباروں میں پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے۔عمداں ماچھن سے وابستہ ایک مشہور واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک میلے میں انہوں نے وارث شاہ کا کلام اس قدر بے ساختہ اور طویل سانس کے ساتھ گایا کہ محفل میں موجود جھنگ کے ایک معروف زمیندار پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ زمیندار نے اسی عالم میں عمداں کو دو مکمل دیہات بطور انعام دینے کا اعلان کر دیا۔ اس دور کے پنجابی معاشرے میں کسی طبقاتی طور پر کمزور سمجھے جانے والے فنکار کو اتنا بڑا جاگیردارانہ انعام ملنا ایک غیر معمولی واقعہ تھا جو تحائف عموماً صرف چوہدریوں یا مہروں کے حصے میں آتے تھے۔ اسی واقعے نے عمداں بی بی کے ذکر کو تاریخ کے اوراق میں زندہ رکھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ تقسیم کے بعد دونوں پنجابوں میں عمداںبی بی کی شخصیت سے کئی کہانیاں جڑی ہوئی تھیں۔یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ جس زمانے میں لین دین آنا، دو آنہ وغیرہ میں ہوتا تھا اور ایک روپیہ بڑی رقم سمجھا جاتا تھا، یہاں تک کہ روایت کے مطابق ایک روپیہ میں ایک من گندم ملتی تھی،عمداں بی بی محفل میں ایک روپیہ سے کم قبول نہیں کرتی تھیں۔پنجاب کے میلوں اور میدانوں میں کسی پسندیدہ فنکار کی آواز یا پرفارمنس پر دی جانے والی انعامی رقم کوکنواں کہا جاتا ہے۔ایک روپیہ سے کم قبول نہ کرنے کا مقصد محض زیادہ دولت حاصل کرنا نہیں کہا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ عمداں بی بی چاہتی تھیں کہ ان کے فن کی تعریف کے لیے یہ رقم کسی امیر کی جیب سے آئے نہ کہ کسی غریب یا سفید پوش شخص کی کم آمدنی سے۔ انہوں نے خود بھی بچپن میں انتہائی غربت کا تجربہ کیا تھا، اس لیے وہ مزدور طبقے اور غریبوں کی حالت زار سے بخوبی واقف تھے۔عمدہ بی بی سے جڑی ایک مشہور لوک کہانی ہے کہ ایک دفعہ حصار ضلع کا ایک بوڑھا کسان ان کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا بیٹا جو عمداں بی بی کی آواز کا مداح تھا، اس نے اپنا بیل بیچ کر کمائی ہوئی تمام رقم خرچ کر دی۔ بوڑھے نے بے بسی سے کہا، اب میں کھیت میں ہل کیسے چلا سکتا ہوں۔ عمداںبی بی نے یہ سنا تو بغیر کسی نقصان کے اپنے بیل کی رقم اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
عمداںبی بی کی مقبولیت میلوں اور میدانوں تک محدود نہیں رہی۔ 1938 میں ایک مشہور گراموفون کمپنی نے ان سے ان کی آواز ریکارڈ کرنے کے لیے رابطہ کیا اور 1939 میں ان کا پہلا گراموفون ریکارڈ، جسے اس وقت عام طور پرتوا کہا جاتا تھا، جاری کیا گیا۔ اس ریکارڈ کو F12706 کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں اس نے مزید ریکارڈز جاری کیے اور ان کی آواز پنجاب کے ان حصوں تک پہنچی جہاں وہ خود نہیں گا سکتی تھیں۔ان کے گراموفون ریکارڈز کی مقبولیت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شادیوں کے لیے لاؤڈ سپیکر کی بکنگ کرتے وقت سب سے پہلے لوگوں نے پوچھا: کیا آپ کے پاس دکی کا ریکارڈ ہے؟ پنجاب کے گھروں اور شادیوں تک پہنچ گئی۔تقسیم ہند کے موقع پر عمداں بی بی کو بھی اپنا آبائی گاؤں چھوڑنا پڑا۔
ایک مشہور افسانہ کے مطابق، سبز کے لوگ اسے پاکستان نہیں جانے دینا چاہتے تھے، لیکن 1947 کے مشکل حالات میں ان کے لیے بھارت میں رہنا ممکن نہیں رہا۔ آخر کار وہی ایشر سنگھ اور گوریا سنگھ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسے لاہور کی قید سے چھڑایا تھا، اس کی حفاظت میں ستلج پار کر کے اسے پاکستان کے لیے چھوڑ دیا۔پاکستان پہنچنے کے بعد عمداں ماچھن نے پاکپتن میں سکونت اختیار کی اور کچھ عرصہ گانا جاری رکھا۔
یہاں بھی ان کی آواز کو سراہا گیا لیکن کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے بعد ماں، باپ اور شوہر کی قبروں سے دوری ان کے دل کو پوری طرح چھو نہیں سکی۔ اپنے آبائی گاؤں میں بچپن اور جوانی کی یادوں نے اسے اندر ہی اندر توڑ دیا۔ تقسیم کے تقریباً پانچ چھ سال بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ اس حساب کے مطابق ان کی وفات 1952 یا 1953 کے لگ بھگ ہوئی لیکن ان کی وفات کی صحیح تاریخ اور ان کی قبر کا مقام ابھی تک معلوم نہیں ہے۔عمداںماچھن کی زندگی کے بہت سے واقعات دستاویزی تاریخ کے بجائے عوامی یادداشت، مقامی روایات اور لوک داستانوں کے ذریعے ہمارے سامنے آئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان روایات میں مبالغہ آرائی یا بیانیہ رنگت کا امکان اپنی جگہ ہے۔لیکن عمداں ماچھن کی گراموفون ریکارڈنگ، غیر معمولی ہیکس، برہہ کا کلام اور عام پنجاب میں بے مثال مقبولیت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی ان کی آواز کی نایاب ریکارڈنگز ایمیزون میوزک جیسے عالمی مشہور پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں جو ان کے فن کی بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔وہ کسی موروثی گائیکی گھرانے کے منتخب فنکار نہیں تھے بلکہ غربت، یتیمی اور ذاتی صدمے کی دھند سے گزر کر پنجاب کی ایک عظیم لوک آواز تھے۔ گراموفون نے ان کی آواز کے کچھ آثار محفوظ کر رکھے تھے، لیکن لاہور ریڈیو کی آواز کا ذخیرہ اس کے جادوئی ہیک سے محروم تھا۔
پنجاب میں شفاہی تاریخ کو محفوظ نہ کرنے اور لوک فنکاروں کا تحریری ریکارڈ نہ رکھنے کے باعث عمداں ماچھن کی نہ کوئی تصویر دستیاب ہے، نہ ہی ان کی قبر یا رہائشی مکان کا حتمی سراغ ملتا ہے۔ ذات پات کے سخت نظام اور سماجی ناہمواری کے باوجود ان کا فن گرائموفون ریکارڈز کے ذریعے محفوظ ہوا، جسے آج بھی 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ پہلی ہی تان پر پہچان لیتے ہیں۔ عمداں ماچھن کی یہ داستان پنجابی لوک فن کی اس جدوجہد کی عکاس ہے جہاں بے پناہ صلاحیت کے حامل فنکار معاشرتی ناہمواریوں کے باوجود اپنے فن کے بل بوتے پر تاریخ میں اپنا نام درج کروانے میں کامیاب ہوئے۔













ہفتہ 5 ستمبر 2026 

