سفالبارڈ گلوبل سیڈ والٹ (نارویجین: Svalbard globale frøhvelv) ناروے کے دور دراز آرکٹک جزیرہ نما سفالبارڈ کے جزیرے اسپیٹس برگن (Spitsbergen) میں واقع دنیا بھر کی فصلوں کے تنوع کا ایک محفوظ ترین بیک اپ مرکز ہے۔ یہ سیڈ والٹ دنیا بھر کے جین بینکس میں محفوظ بیجوں کی نقل (ڈپلیکیٹس) کو طویل عرصے کے لیے محفوظ رکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس والٹ کا انتظام حکومتِ ناروے، کراپ ٹرسٹ (Crop Trust) اور نورڈک جینیٹک ریسورس سینٹر (NordGen) کے مابین طے پانے والے ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت چلایا جاتا ہے۔ حکومتِ ناروے نے والٹ کی تعمیر کی تمام تر لاگت برداشت کی جو تقریباً 45 ملین نارویجین کرون (2008ء میں 8.8 ملین امریکی ڈالر) تھی۔ اس کے آپریشنل اخراجات ناروے اور کراپ ٹرسٹ ادا کرتے ہیں، جبکہ بیج جمع کروانے والے اداروں کے لیے ان بیجوں کا ذخیرہ بالکل مفت ہے۔جون 2025ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق، اس والٹ میں 1355591 نمونے محفوظ کیے جا چکے ہیں، جو کہ 13,000 سال سے زائد کی زرعی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

1984ء میں نورڈک جین بینک (موجودہ NordGen) نے لانگایربین (Longyearbyen) کے باہر ایک متروک کوئلے کی کان میں منجمد بیجوں کے ذریعے نورڈک پودوں کا بیک اپ ڈیٹا ذخیرہ کرنا شروع کیا۔2001ء میں، خوراک اور زراعت کے لیے پودوں کے جینیاتی وسائل سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ (ITPGRFA) منظور کیا گیا اور جلد ہی قومی حکومتوں نے اس کی توثیق کرنا شروع کر دی۔ یہ معاہدہ جینیاتی وسائل کے لیے ایک کثیر الجہتی نظام قائم کرتا ہے جس میں مواد تک رسائی اور وسائل استعمال کرنے والوں کی جانب سے حاصل ہونے والے فوائد میں شرکت کا طریقہ کار شامل ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے ماہر کیری فاولر (Cary Fowler) کی قیادت میں ایک ٹیم نے سیڈ والٹ کی تعمیر کے لیے مہم چلائی اور نارویجین حکومت سے رابطہ کیا۔ فاولر نے اس والٹ کا تصور پیش کیا، اس کی منصوبہ بندی کرنے والی کمیٹی کی سربراہی کی اور وہ اس بین الاقوامی کونسل کے بانی چیئر ہیں جو اس کے آغاز سے ہی والٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔ حکومتِ ناروے نے ایگریکلچرل یونیورسٹی آف ناروے کے سینٹر فار انٹرنیشنل انوائرمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اور نورڈک جین بینک کو اس منصوبے کا ٹھیکہ دیا۔ فاولر کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے 2004ء میں ایک ابتدائی جائزہ (Feasibility Study) مکمل کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ سفالبارڈ طویل مدتی ذخیرہ اندوزی کے لیے ایک مناسب ترین مقام ہے۔2004ء میں ہی ITPGRFA نافذ العمل ہوا اور اس نے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی سہولت کے قیام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے (FAO) کے کمیشن آن جینیٹک ریسورسز نے اس اقدام کی توثیق کی اور اکتوبر 2004ء میں حکومتِ ناروے نے سیڈ والٹ کی فنڈنگ اور تعمیر شروع کرنے کی ذمہ داری لی۔ 2006ء میں جیفری ہاؤٹن کو فنی، انتظامی اور سیاسی امور پر رپورٹ تیار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا۔اس والٹ کا باقاعدہ افتتاح 26 فروری 2008ء کو ہوا، جبکہ بیجوں کی پہلی کھیپ جنوری 2008ء میں ہی پہنچ گئی تھی۔

سیڈ والٹ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر، خوراک کی فصلوں کے 90,000 سے زائد نمونے ذخیرہ کیے گئے، جس سے بیجوں کے کل نمونوں کی تعداد 400,000 تک پہنچ گئی۔ نئے آنے والے بیجوں میں آئرلینڈ کے قومی جین بینک سے آلو کی 32 اقسام اور امریکی زرعی تحقیقاتی سروس سے 20,000 نئے نمونے شامل تھے۔ دیگر نمونے کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ کے جین بینکس کے علاوہ کولمبیا، میکسیکو اور سیریا (شام) کے بین الاقوامی جین بینکس سے آئے تھے۔ اس 4 ٹن وزنی کھیپ کے بعد والٹ میں محفوظ بیجوں کی کل تعداد 20 ملین (2 کروڑ) سے تجاوز کر گئی۔ پہلی سالگرہ تک والٹ میں دنیا کی سب سے اہم غذائی فصلوں کی تقریباً ایک تہائی اقسام کا ذخیرہ موجود تھا۔ اس سالگرہ کے موقع پر خوراک کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کی ایک تین روزہ کانفرنس بھی لانگایربین میں منعقد ہوئی۔جاپانی مجسمہ ساز مٹسواکی تانابے نے والٹ کو ایک فن پارہ پیش کیا جسے “The Seed 2009 / Momi In-Situ Conservationکا نام دیا گیا۔
2010ء میں امریکی سینیٹرز کے سات رکنی وفد نے مرچوں کی مختلف اقسام کے بیج جمع کروائے۔ 2013ء تک، عالمی سطح پر جین بینکس میں محفوظ جینیاتی اقسام کا تقریباً ایک تہائی حصہ اس والٹ میں منتقل کیا جا چکا تھا۔ 2015ء میں، جاری تنازعات کی وجہ سے محققین نے مشرقِ وسطیٰ سے بیجوں کو تحفظ کے لیے سفالبارڈ بھیجنا شروع کیا۔
اکتوبر 2016ء میں، اوسط سے زیادہ درجہ حرارت اور شدید بارشوں کی وجہ سے والٹ میں غیر معمولی طور پر پانی داخل ہو گیا۔ اگرچہ بہار کے گرم مہینوں میں والٹ کی 100 میٹر لمبی سرنگ میں پانی رسنا عام بات ہے، لیکن اس موقع پر پانی سرنگ کے اندر 15 میٹر تک چلا گیا اور بعد میں جم گیا۔ چونکہ والٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ پانی کے دخول کو برداشت کر سکے، اس لیے بیجوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ تاہم، اس کے نتیجے میں ناروے کی پبلک ورکس ایجنسی (Statsbygg) نے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے 2019ء میں سرنگ کی مرمت و بہتری کا کام مکمل کیا، جس میں دیواروں کو واٹر پروف بنانا، گرمی کے ذرائع کو ہٹانا اور بیرونی نکاسی کے نالے کھودنا شامل تھا۔

26 فروری 2018ء کو 10ویں سالگرہ کے موقع پر 70,000 نمونوں کی ایک اور کھیپ پہنچائی گئی، جس سے موصول ہونے والے کل نمونوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی (ان میں سے نکالے گئے بیج شامل نہیں ہیں)۔دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، کووڈ-19 کی وبا سے اس سہولت کو کوئی خطرہ پیش نہیں آیا کیونکہ وہاں کوئی مستقل عملہ موجود نہیں ہوتا۔ 2019ء میں والٹ کی دیکھ بھال کی لاگت تقریباً 2.4 ملین کرون (282,000 امریکی ڈالر) تھی۔
ناروے، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئس لینڈ کے وزرائے اعظم نے 19 جون 2006ء کو علامتی طور پر اس کا پہلا پتھر رکھا تھا۔یہ سیڈ بینک اسپیٹس برگن جزیرے پر ایک ریتلے پتھر (Sandstone) کے پہاڑ کے اندر 130 میٹر (430 فٹ) کی گہرائی میں واقع ہے اور اس میں انتہائی سخت سیکیورٹی سسٹمز لگائے گئے ہیں۔ اس سہولت کا انتظام نورڈک جینیٹک ریسورس سینٹر کے پاس ہے، تاہم موقع پر کوئی مستقل عملہ موجود نہیں ہوتا۔
اسپیٹس برگن کو اس لیے موزوں ترین سمجھا گیا کیونکہ یہاں زلزلے وغیرہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہاں پرمافروسٹ (مستقل جمی ہوئی برف) موجود ہے جو تحفظ میں مدد دیتی ہے۔ سطح سمندر سے 130 میٹر کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ مقام قطبین کی برف پگھلنے کی صورت میں بھی خشک رہے گا۔ مقامی طور پر نکالا جانے والا کوئلہ ان کولنگ یونٹس کو بجلی فراہم کرتا ہے جو بیجوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق منفی 18 ڈگری سیلسیس (-18°C) تک ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ اگر بجلی کا نظام ناکام بھی ہو جائے، تو اس سہولت کا درجہ حرارت ارد گرد کے پہاڑ کے قدرتی درجہ حرارت (منفی 3 ڈگری) تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگیں گے، جبکہ 0 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے میں تقریباً دو صدیاں لگیں گی۔
تعمیر سے قبل کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ والٹ اہم غذائی فصلوں کے بیجوں کو سینکڑوں سال تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ کچھ اہم اناج کے بیج تو ممکنہ طور پر ہزاروں سال تک کارآمد رہ سکتے ہیں۔والٹ کی چھت اور سامنے کے مرکزی دروازے پر ایک روشن فن پارہ نصب ہے جسے نارویجین آرٹسٹ ڈیویک سان نے بنایا ہے اور اسے Perpetual Repercussionکا نام دیا گیا ہے، جو دور سے ہی والٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ناروے میں ایک مخصوص لاگت سے تجاوز کرنے والے سرکاری منصوبوں میں فن پارہ شامل کرنا لازمی ہے۔ چھت اور داخلے کے راستے کو اسٹینلیس اسٹیل، آئینوں اور پرزم سے سجایا گیا ہے۔ یہ تنصیب گرمیوں کے مہینوں میں قطبی روشنی کو منعکس کرتی ہے، جبکہ سردیوں میں 200 فائبر آپٹک کیبلز کا نیٹ ورک اس کو ہلکی سبز، فیروزی اور سفید روشنی دیتا ہے۔
سیڈ والٹ کا بنیادی مشن روایتی جین بینکس میں ذخیرہ شدہ تنوع کے حادثاتی نقصان کے خلاف بیک اپ فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ عام میڈیا نے کسی بڑے علاقائی یا عالمی حادثے کے وقت اس کی افادیت پر زور دیا ہے، لیکن اس والٹ کا استعمال زیادہ تر اس وقت ہوگا جب بدانتظامی، حادثات، آلات کی خرابی، فنڈز کی کمی یا قدرتی آفات کی وجہ سے عام جین بینکس اپنے نمونے کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں؛ مثال کے طور پر، فلپائن کا قومی جین بینک سیلاب سے متاثر ہوا اور بعد میں آگ سے تباہ ہو گیا، افغانستان اور عراق کے جین بینکس مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جبکہ شام کا ایک بین الاقوامی جین بینک غیر فعال ہو گیا تھا۔دی اکانومسٹ کے مطابق، سفالبارڈ والٹ دنیا کے 1,750 سیڈ بینکس کے لیے ایک بیک اپ کا کام کرتا ہے۔

نارویجین قانون کے تحت والٹ میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GMO) بیجوں کو ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہے۔
اس کے قریب ہی واقع “آرکٹک ورلڈ آرکائیو” ڈیٹا کے لیے اسی طرح کی سروس فراہم کرتا ہے، جہاں ڈیٹا کو فلم کی ریلوں پر کوڈ کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔ پروجیکٹ کی سربراہ کمپنی ‘پیکل’ (Piql) کا دعویٰ ہے کہ اگر اسے درست طریقے سے رکھا جائے تو یہ فلم 1,000 سال تک محفوظ رہ سکتی ہے۔
انتظام اور ملکیت
سیڈ والٹ کا انتظام نارویجین حکومت، کراپ ٹرسٹ، اور NordGen کے درمیان سہ فریقی معاہدے کے تحت ہوتا ہے۔ ناروے والٹ کا مالکانہ حق رکھتا ہے۔ کراپ ٹرسٹ روزمرہ کے اخراجات کی فنڈنگ فراہم کرتا ہے اور بیج جمع کروانے والوں کی مدد کرتا ہے۔ NordGen والٹ کا نظام چلاتا ہے اور بیجوں کا پبلک ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے۔
ایک بین الاقوامی مشاورت کونسل اس کی رہنمائی کرتی ہے جس میں FAO، CGIAR، اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔
والٹ میں محفوظ بیجوں کے نمونے اصل جین بینکس کے نمونوں کی کاپیاں ہوتے ہیں۔ محققین یا پودوں کی افزائش کرنے والے افراد براہِ راست سفالبارڈ والٹ سے بیج حاصل نہیں کر سکتے؛ انہیں اس کے لیے اصل جمع کنندہ جین بینک سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ سیڈ والٹ بینک کے “سیف ڈپازٹ بکس” کی طرح کام کرتا ہے۔ جیسے بینک عمارت کا مالک ہوتا ہے اور گاہک اپنے باکس کے سامان کا، اسی طرح ناروے کی حکومت اس عمارت کی مالک ہے جبکہ جمع کروائے گئے بیجوں کی ملکیت متعلقہ جین بینکس کے پاس ہی رہتی ہے۔ سفالبارڈ میں بیج جمع کروانے سے جینیاتی وسائل کی قانونی منتقلی نہیں ہوتی، جسے جین بینک کی زبان میں “بلیک باکس” کا انتظام کہا جاتا ہے۔ ناروے ان بیجوں پر کسی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتا اور صرف جمع کروانے والے کو ہی ان تک رسائی کا حق حاصل ہوتا ہے۔
شامی خانہ جنگی کی وجہ سے بلیک باکس کے اس نظام کا عملی امتحان ہوا۔ تنازع کے باعث خشک علاقوں میں زرعی تحقیق کا بین الاقوامی مرکز (ICARDA) حلب، شام میں واقع اپنے جین بینک سے نمونے تقسیم کرنے کے قابل نہ رہا۔ 2015ء میں، ICARDA نے سفالبارڈ میں اپنے محفوظ کیے گئے کچھ بیجوں کو واپس نکالا تاکہ ان کی دوبارہ افزائش کی جا سکے۔ 2017ء میں مزید بیج نکالے گئے۔ ان بیجوں کو لبنان اور مراکش کے کھیتوں میں اگا کر ان کی تعداد بڑھائی گئی۔ ان میں سے کچھ بیج واپس سفالبارڈ بھیج دیے گئے جبکہ دیگر لبنان اور مراکش کے مراکز میں محفوظ کر لیے گئے۔ مئی 2024ء تک والٹ سے بیج نکالنے کا یہ واحد واقعہ ہے۔
بیجوں کو ایلومینیم کی تین تہوں والی سیل بند تھیلیوں میں رکھا جاتا ہے اور پھر انہیں پلاسٹک کے ڈبوں میں ریک پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کمروں کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سیلسیس رکھا جاتا ہے۔ کم درجہ حرارت اور آکسیجن کی محدود مقدار بیجوں کی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔ بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی صورت میں ارد گرد موجود پرمافروسٹ ٹھنڈک برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے۔
بیجوں کے ڈبوں پر نینو فلم کی شیٹس چپکائی جاتی ہیں جن میں بیجوں کی پہچان کی معلومات درج ہوتی ہیں۔مارچ 2025ء تک، 127 ادارے اپنے بیج سفالبارڈ میں محفوظ کر چکے ہیں۔
علاوہ ازیں، کچھ مقامی اور قدامت پسند برادریوں نے بھی بیج جمع کروائے ہیں؛ مثلاً 2015ء میں پیرو کی پارک ڈی لا پاپا برادری نے آلو کے 750 نمونے جمع کروائے، جبکہ 2020ء میں چیروکی نیشن (Cherokee Nation) امریکہ کا پہلا قبیلہ بنا جس نے اپنی روایتی فصلوں کے 9 نمونے وہاں محفوظ کیے۔سیڈ والٹ کو بین الاقوامی تعاون اور انسائیت کی بقا کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس موضوع پر متعدد دستاویز فلمیں (جیسے Seeds of Time) اور بچوں کی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔

پاکستان میں بھی سفالبارڈ کی طرز پر قومی سطح کا مرکزی جین بینک اسلام آباد میں قومی زرعی تحقیقی مرکز (NARC) کے اندر قائم ہے، جسے پلانٹ جینیٹک ریسورسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (PGRRI) یا پاکستان نیشنل جین بینک کہا جاتا ہے۔یہ انسٹی ٹیوٹ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کے زیرِ انتظام کام کرتا ہے اور ملک کی غذائی سلامتی کے لیے اہم ترین ادارہ ہے۔ اس جین بینک کی عمارت اور سسٹم کا قیام 1993ء میں جاپان کی بین الاقوامی تعاون کی ایجنسی (JICA) کے تعاون سے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان بھر کی مقامی، قدامت پسند اور نایاب زرعی فصلوں، جڑی بوٹیوں اور پھلوں کے بیجوں کو محفوظ کرنا تاکہ مستقبل میں کسی بیماری، قحط یا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مقامی فصلیں تباہ نہ ہوں۔

بیجوں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کارپاکستان کے اس قومی جین بینک میں بیجوں کو دو بنیادی طریقوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے،طویل مدتی ذخیرہ (Long-term Storage)کیلئے بیجوں کودرجہ حرارت: منفی 18 سے منفی 20 ڈگری سیلسیستک یہاں بیجوں کو 30 سے 50 سال یا اس سے بھی زائد عرصے کے لیے منجمد حالت میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔متوسط مدتی ذخیرہ (Medium-term Storage)بیجوں کادرجہ حرارت 0 سے 5 ڈگری سیلسیس کی مدت 10 سے 15 سال کے لیے ہوتا ہے اور یہ بیج بنیادی طور پر تحقیقی مقاصد اور تقسیم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ موجودہ ذخیرہ اور گنجائش ذخیرہ شدہ نمونے انسٹی ٹیوٹ میں اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں (بشمول گلگت بلتستان، چولستان، تھر، اور کے پی کے کے دور دراز علاقوں) سے جمع کیے گئے۔

50,000 سے زائد بیجوں کے نمونے (Accessions) محفوظ ہیں۔فصلوں کے بیجوں میں گندم، چاول، دالیں، کپاس، باجرہ، مکہ، اور مختلف سبزیوں کے روایتی اور مقامی بیج شامل ہیں۔ بین الاقوامی روابط اور سفالبارڈ میں پاکستان کا حصہ بھی موجود ہے پاکستان نے عالمی بیک اپ کے طور پر پاکستان کے اس قومی جین بینک نے اپنی کئی اہم مقامی فصلوں اور گندم/چاول کے نایاب جینیاتی نمونوں کی کاپیاں (Backup) ناروے کے سفالبارڈ گلوبل سیڈ والٹ میں بھی محفوظ کروائی ہوئی ہیں تاکہ اگر مقامی سطح پر کوئی بڑا حادثہ یا آفت آئے تو پاکستان کے بیج محفوظ رہیں۔













اتوار 6 ستمبر 2026 

