بیرون ملک جاکر دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھنا ہر متوسط خاندان کی بڑی خواہش ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ مہنگی فیسوں اور پیسوں کی کمی کی وجہ سے یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں۔ اگر طلباء اور ان کے والدین تھوڑی سی سمجھداری سے کام لیں اور وقت پر تیاری شروع کریں، مناسب اسکالرشپ(scholarships) تلاش کرے اور ویزا قوانین کو سمجھے تو بیرونِ ملک تعلیم کا خرچ کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور مڈل کلاس گھرانے کے بچے بھی باہر پڑھنے کا خواب آسانی سے پورا کر سکتے ہیں۔
والدین اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ایک عام مڈل کلاس خاندان اپنے بچوں کو بیرون ملک پڑھانے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ اس کا جواب ہاں ہے، بشرطیکہ تیاری بہت پہلے سے شروع کی جائے۔
بیرونِ ملک تعلیم کے لیے تیاری کا آغاز کالج یا میٹرک کے آخری سالوں میں نہیں بلکہ مڈل یا اس سے بھی پہلے کر دینا چاہیے۔ صرف اچھے نمبر لے لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اصل چیز بچے کی صلاحیت اور اس کا ہنر ہوتا ہے۔
شروع سے ہی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کسی ایک ایسے شعبے میں مہارت حاصل کرنی چاہیے جس میں بچے کی دلچسپی اور رحجان ہو۔ آخری وقت پر بنائی گئی تعلیمی پروفائل اتنی کارآمد نہیں رہتی۔
اسکالرشپ کی بروقت تلاش بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین صرف یونیورسٹی کی فیس دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔ بعض غیر ملکی یونیورسٹیاں ضرورت مند اور قابل طلبہ کو مالی امداد یا اسکالرشپ فراہم کرتی ہیں، جس کے بعد بظاہر بہت مہنگی یونیورسٹی بھی خاندان کے لیے نسبتاً قابلِ برداشت ہو سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران کی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو 7 شرائط پیش
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکالرشپ کے لیے درخواست یونیورسٹی میں داخلے کی درخواست کے ساتھ ہی دینی چاہیے، داخلہ ملنے کے بعد انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اکثر ذہین طلباء صرف ڈیڈ لائن نکل جانے کی وجہ سے مکمل فنڈنگ یا اسکالرشپ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کے علاوہ طلباء سنگاپور، ہانگ کانگ اور دیگر ایشیائی یا یورپی ممالک کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں جہاں تعلیم کا معیار بھی بلند ہے اور تعلیمی اخراجات نسبتاً کم یا وظائف کے ذریعے قابو میں آ جاتے ہیں۔
پڑھائی کے دوران پارٹ ٹائم نوکری کے حوالے سے یہ واضح رہنا چاہیے کہ اس سے صرف جیب خرچ یا روزمرہ کے ذاتی اخراجات پورے ہو سکتے ہیں، اس سے یونیورسٹی کی بھاری فیس بھرنے کا نہیں سوچنا چاہیے۔
زیادہ تر ممالک میں اسٹوڈنٹ ویزا پر جانے والے طلباء کو ایک ہفتے میں محدود گھنٹے کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی اخراجات یا پاکٹ منی کا انتظام کر سکیں لیکن یہ صرف پاکٹ منی کے لیے ہوتی ہے نہ کہ پوری فیس کے لیے۔
اس لیے بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اسٹوڈنٹ ویزا کے کام سے متعلق قوانین کو اچھی طرح سمجھیں اور اجازت کے مطابق ہونے والی آمدنی کو اپنے رہائش اور روزمرہ اخراجات کے منصوبے میں شامل کریں۔
اگر طالب علم لائق اور محنتی ہو تو پیسہ کبھی بھی اصل رکاوٹ نہیں بنتا۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے اچھے طلباء کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور پاکستانی طلباء بھی درست سمت میں بروقت تیاری کرکے ان سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔













اتوار 13 ستمبر 2026 

