دنیا کی کوئی حکومت بھی مصنوعی ذہانت سے آنیوالی تبدیلیوں کیلئے تیار نہیں، بل گیٹس

Calender Icon منگل 15 ستمبر 2026

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت سے معاشرے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں۔

لندن میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ حکومتیں مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں اور انہیں اس ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلیوں کیلئے مزید تیاری کرنا ہوگی۔

بل گیٹس نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت کے معاملے پر اس سطح تک کام کر رہی ہے جس کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے اور اس تک مساوی رسائی یقینی بنائی جائے تو یہ دنیا کے غریب ترین افراد کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

واضح رہے مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس حالیہ عرصے تک مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ پرامید مؤقف رکھتے تھے تاہم اب انہوں نے اس ٹیکنالوجی سے وابستہ بعض خطرات پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کو لاحق خطرات، ممکنہ حملوں سے متعلق خدشات اور چیٹ بوٹس کی لت کے خطرات سے خبردار کیا۔

بل گیٹس کے مطابق وہ اپنے خدشات کے حوالے سے دنیا کے مختلف رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے بھی اس معاملے پر گفتگو کرچکے ہیں جبکہ رواں سال کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

غریب ممالک کیلئے مصنوعی ذہانت کے امکانات
بل گیٹس اور ان کی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے امیر اور غریب ممالک کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس ٹیکنالوجی تک رسائی وسیع اور مساوی بنائی جائے۔

فاؤنڈیشن نے اعلان کیا کہ وہ اگلے دو برس کے دوران مصنوعی ذہانت تک رسائی بڑھانے کیلئے کم از کم ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

یہ رقم فاؤنڈیشن کے پہلے سے اعلان کردہ سالانہ 9 ارب ڈالر خرچ کرنے کے منصوبے کا حصہ ہوگی۔ رقم ان شراکت دار اداروں کو فراہم کی جائے گی جو تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر کام کر رہے ہیں۔

فاؤنڈیشن مصنوعی ذہانت کیلئے درکار ڈیٹا کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں بھی مدد کرے گی اس میں یہ کوشش بھی شامل ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں کام کرسکیں۔

صحت کے شعبے میں اے آئی کا کردار
بل گیٹس نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کو بھی نمایاں قرار دیا۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے میں اے آئی کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھی مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں فرنٹ لائن ورکرز کی معاونت سے لے کر نئی ادویات اور ویکسینز کی دریافت تک اہم کردار ادا کرسکتی ہے تاہم بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں کو ان مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی آمد کو ایک ایسی صورتحال سے تشبیہ دی جس میں کسی فلم کی طرح ایک غیر معمولی ذہانت دنیا کے سامنے موجود ہو اور مختلف ممالک کو مل کر اس سے نمٹنا پڑے۔

بل گیٹس نے کہا کہ فلموں میں اکثر دکھایا جاتا ہے کہ جب کسی دوسرے سیارے کی مخلوق زمین پر آتی ہے تو امریکا، چین اور دیگر ممالک مسئلے کو حل کرنے کیلئے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت بھی کسی حد تک ایسی ہی اجنبی ذہانت ہے جو اب موجود ہے اور دنیا کو اس صورتحال میں مل کر کام کرنا چاہیے۔

بل گیٹس کے مؤقف میں تبدیلی
بل گیٹس کا مصنوعی ذہانت کے حوالے سے موجودہ مؤقف ان کے ماضی کے نسبتاً پرامید انداز سے مختلف ہے۔ انہوں نے حالیہ عرصے میں اے آئی کے ممکنہ منفی اثرات، خصوصاً ملازمتوں، سکیورٹی اور انسانی رویوں پر اس کے اثرات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہوسکیں اور اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جاسکے۔

جیفری ایپسٹین سے تعلق پر مؤقف
انٹرویو کے دوران بل گیٹس سے جیفری ایپسٹین سے تعلق کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔

بل گیٹس نے جون میں امریکی کانگریس کے سامنے اپنے ایپسٹین سے تعلق کے حوالے سے گواہی دی تھی۔ وہ کسی جرم کے الزام کا سامنا نہیں کر رہے اور متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایپسٹین سے تعلق رکھنے پر افسوس ہے۔

گیٹس کے مطابق انہیں امید تھی کہ ایپسٹین عالمی صحت کے منصوبوں کیلئے عطیات فراہم کریں گے تاہم ان کے بقول ایپسٹین نے بعد میں ان کے ازدواجی زندگی سے متعلق معاملات کو بنیاد بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس کا ریکارڈ طلب

ایپسٹین سے تعلق کے باعث بل گیٹس کی فاؤنڈیشن نے ایک بیرونی جائزہ بھی شروع کیا تھا۔ اس جائزے میں ایپسٹین کو کوئی ادائیگی کرنے یا مجرمانہ سرگرمیوں میں شرکت کے شواہد نہیں ملے۔