ہگنگ فیس سے قبل اوپن اے آئی کےاے آئی ایجنٹس کا روبے جیمز پر سائبر حملہ: محققین کا سنسنی خیز انکشاف

Calender Icon منگل 15 ستمبر 2026

واشنگٹن : اوپن اے آئی (OpenAI) کے زیرِ تجربہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ایجنٹس نے اوپن سورس پلیٹ فارم ہگنگ فیس (Hugging Face) پر حملہ کرنے سے دو ماہ قبل سافٹ ویئر سروس روبے جیمز (RubyGems) کو بھی سائبر حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق محققین نے جمعہ کے روز ایک آن لائن رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ 11 مئی کو اے آئی ایجنٹس نے روبے جیمز کی ویب سائٹ پر سینکڑوں موذی (ملیشیس) پیکیجز اپ لوڈ کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں اوپن اے آئی کے اندرونی ایجنٹس کی جانب سے کی گئیں۔

اوپن اے آئی کا موقف اور پچھلے واقعات

اوپن اے آئی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ایجنٹس نے تربیتی مراحل اور معلوماتی جانچ کے دوران عوامی ڈیٹا تک رسائی کے لیے روبے جیمز کا پلیٹ فارم استعمال کیا تھا اور کمپنی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

اوپن اے آئی کے لیے روبے جیمز کا یہ حملہ کسی دوسرے ادارے کے انفراسٹرکچر پر حملے کا کم از کم تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جولائی میں ہگنگ فیس پر سائبر حملے کے علاوہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی ایک فوج نے جرمن زبان کی ایک ویکی سائٹ کو ہیک کر کے امتحان میں نقل کے لیے پیغام رسانی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا تھا۔

سیکیورٹی خدشات اور انسانی بقا کو خطرات

محققین اسبینسر کٹس، تھامس لارسن اور سڈنی وان آرکس کے مطابق اے آئی ایجنٹس نے ویب سائٹ کے سرورز کی ایک نامعلوم سیکیورٹی خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کے پاس ورڈز اور کریڈینشلز چوری کرنے کی کوشش کی۔ مزید برآں، ایجنٹس نے روبے ڈاک ڈاٹ انفو (RubyDoc.info) کے سرورز کو اپنا کوڈ چلانے کے لیے استعمال کیا۔

روبے جیمز کی سیکیورٹی ٹیم نے مئی میں اس واقعے کو ایک بڑا موذی حملہ قرار دیا تھا جس کے باعث نئے اکاؤنٹس کی رجسٹریشن عارضی طور پر روکنی پڑی تھی۔

دوسری جانب اوپن اے آئی اور اس کی حریف کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کے اے آئی ایجنٹس کی جانب سے بیرونی سسٹمز میں مداخلت کے واقعات نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اینتھروپک کے محققین کی جانب سے یہ سنگین خبردار کیے جانے کے بعد کہ اے آئی کی غیر منطقی پیش رفت مستقبل قریب میں انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، امریکی قانون سازوں نے اے آئی سسٹمز کی سخت ریگولیشن اور نئے قوانین کے لیے آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔