سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن(Oil pepeline) پر عراقی ملیشیا کے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کو خام تیل کی سپلائی روک دی۔
گزشتہ دنوں سعودی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر عراق سے ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں عراقی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے بعد ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی تھی۔
تاہم اب سعودی عرب نے یورپ کو خام تیل کی سپلائی بھی روک دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی آرامکو نے یورپی ریفائنریز کو خام تیل کے کارگو منسوخ اور مؤخر کر دیے،سعودی عرب کے فیصلے سے یورپ بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
مزیدپڑھیں:میسی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے یوٹرن لے لیا
واضح رہے کہ ایران امریکا جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز زیادہ تر بند رہی ہے،جس کی وجہ سے پچھلے 6 ماہ سے سعودیہ کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی عالمی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔
اس پائپ لائن سے روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی،اہم سعودی آئل پائپ لائن کی مرمت میں 3سے 5ہفتے لگنے کا امکان ہے
امریکی انرجی سیکرٹری کرس رائٹ نے کہا کہ پائپ لائن چند دنوں میں دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔













بدھ 16 ستمبر 2026 

