نوشکی ، پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید

Calender Icon منگل 22 ستمبر 2026

ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید ہو گئے۔حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے، صوبائی وزیر داخلہ نے رپورٹ طلب کر لی

سٹی پولیس کے مطابق کلی جمال آباد میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں محمد یاسر اور عبدالرؤف شہید ہو گئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور جائے واردات سے فرار ہوتے وقت شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش کیلئے آپریشن شروع کر دیا جبکہ واقعے کی مختلف پہلووں سے تحقیقات بھی شروع کر دیں۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت شہید اہلکاروں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے، دہشتگردی کے واقعات سے ریاست کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوشکی فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

علاوہ ازیں معاون محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے بچوں کے صحت مند اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے کی کوششوں کیخلاف ہیں۔

بابر یوسفزئی نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دلی رنج ہوا، ہمارے شہداء قوم کا فخر ہیں انکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر ہمارے مستقبل کو اپاہیج بنانے کے مذموم سازش کر رہے ہیں، پولیو ٹیمیں فرنٹ لائن ورکرز ہیں ایسے بزدلانہ حملے ہماری جہد کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ دشمن لاکھ کوشش کر لئے اپنے بچوں کو محفوظ اور صحت مند مستقبل کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

خیال رہے دہشتگردی سے متاثرہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیو ٹیمیں اکثر شرپسند عناصر کے نشانے پر رہتی ہیں، جو ویکسینیشن مہم میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رواں سال مئی میں بھی خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پولیو ویکسینیشن ٹیموں کو نشانہ بنانے کے الگ الگ واقعات میں دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں:ایشین گیمز: پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے کانسی کا تمغہ جیت لیا

فائرنگ کا تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم 21 ستمبر سے شروع ہو کر 27 ستمبر تک جاری رہے گی ،مہم کے دوران ملک بھر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔