‘‘کوئی سمجھوتہ نہیں، ہر حال میں نکلیں گے،’’ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ لائحہ عمل جاری کرنے کا اعلان

Calender Icon جمعہ 25 ستمبر 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ “ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، مارچ پر امن ہے، چاہے یہ سڑکوں پر کنٹینر رکھیں یا کیلیں بچھائیں، چاہے گولی چلائیں، اس بار ہم نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔”

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، وہ خود بھی چارسدہ جا رہے ہیں، اور کمیٹی کی مشاورت کے بعد لانگ مارچ سے متعلق لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

پریس کانفرنس کے شروع میں ایک ویڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں اٹک پل پر کیلوں کا جال بچھا دکھایا گیا۔

اس ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے پل کو ناقابل رسائی بنایا گیا ہے۔ “اس کا مطلب خیبر پختونخوا کے عوام کیا یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی ملک سے کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے”۔

یاد رہے کہ سہیل آفریدی دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف متوقع لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں جس کے بارے میں وفاقی حکومتی نمائندوں اور پاکستان مسلم (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج ملتوی کر دیا جائے گا۔

مارچ میں شامل مظاہرین پر پر تشدد ہونے کے الزامات لگا کر انہیں روکنے کے لیے متعدد سخت اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج ملتوی نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، جس کا اعلان ممکنہ طور پر آج کی کیا جائیگا۔

سہیل آفریدی نے مریم نواز کے پنجاب کو ‘پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی’ کے خطرے کے متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین صوبوں کو دہشت گرد اور خیبرپختونوا کی عوام کو جنگلی کہنے سے کیا یہ سمجھا جائے کہ “پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟”

واضح رہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک متنازع بیان میں پختونخوا پر مسلط افراد کو پختون ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “یہ گندے،گھٹیا جنگلی ہیں۔”

ان بیانات پر نہ صرف پی ٹی آئی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے تھے بلکہ وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے خواتین کے خلاف نازیبا الفاظ بھی کہے تھے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ “پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم بچائیں گے پاکستان کو لیکن بہرحال ان کی نیت میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔”

اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب کے حکام پر ان کے صوبے میں “گھس کر یہاں کے سرکاری لوگوں کے ساتھ گتھم گھتا” ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین کی تمام تر توجہ صرف پی ٹی آئی کے وزرا پر ہے اور وہ رہنماؤں کو گرفتار کر کہ انتشار اور گھبراہٹ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ ڈر جائیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔

اس پریس کانفرنس سے کچھ دیر پہلے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی سے ملاقات ہوئی جس میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں، اس کے انتظامات اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت کی گئی۔

محمود خان اچکزئی کے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال، امن و امان اور صوبائی خودمختاری کو درپیش چیلنجز سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی رابطوں اور مشاورت کے عمل کو مزید مضبوط اور مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔قبل ازیں سہیل آفریدی سکیورٹی تھریٹ کے باعث خالی کرائی گئی سول سیکرٹریٹ کی عمارت پہنچے اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی۔

پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے اس تھریٹ کو ‘جعلی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہ رہیں، کوئی تھریٹ نہیں تھا اور سیکرٹریٹ کینٹ کے علاقے میں آتا ہے جو مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دہشت گرد سیکرٹریٹ تک پہنچ سکتا ہے تو پھر سیکیورٹی لائن کیا کر رہی ہے؟

سیکرٹریٹ میں نمازِ کے بعد انہوں نے چیف سیکرٹری آفس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ لی تھی اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سول سیکرٹریٹ مسجد میں نماز کی ادائیگی دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پیغام ہے، دہشت گرد ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور عوام و حکومت ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔

مزید پڑھیں:دہشتگردوں کی سہولتکاری پی ٹی آئی پارٹی پالیسی کا بنیادی جزو ہے، عطاء تارڑ

انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ دہشت گردی کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔