ٹرمپ کی ایران پر پابندیاں نرم کرنے کی تردید کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Calender Icon بدھ 30 ستمبر 2026

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں(Crude Oil) میں بدھ کو اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تردید اور قطر کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں قرار دی جارہی ہیں۔

برینٹ خام تیل کے دسمبر سودے 1.14 ڈالر یا 1.11 فیصد اضافے کے بعد 103.73 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 34 سینٹ یا 0.38 فیصد بڑھ کر 89.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

برینٹ رواں ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جولائی کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوگا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی گزشتہ عرصے میں 106 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کرچکا ہے۔

قطر نے منگل کو کہا کہ اسے امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ مشترکہ بنیاد تلاش کرکے ایسا معاہدہ کیا جاسکے جو تنازع کے اثرات کو کم کرسکے۔

مزیدپڑھیں:ایندھن پر ریلیف صرف مستحق افراد کو دیا جائے، آئی ایم ایف

تاہم ٹرمپ نے ایران کو پابندیوں میں ممکنہ ریلیف اور منجمد اثاثے جاری کرنے سے متعلق ایک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔

دریں اثنا سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بحالی کے بعد ینبع بندرگاہ سے تیل ٹینکرز کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔ ستمبر میں مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی خام تیل برآمدات بڑھ کر یومیہ 1 کروڑ 63 لاکھ 28 ہزار بیرل ہوگئیں۔

امریکی پٹرولیم ذخائر میں گزشتہ ہفتے 10 لاکھ 20 ہزار بیرل اضافہ ہوا، جبکہ سرکاری اعدادوشمار آج جاری کیے جائیں گے۔