مودی حکومت کی جانب سے مشکلات میں گھرے اڈانی گروپ کو مالی معاونت دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے اندرونی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی حکام نے ایک ایسے منصوبے کی نگرانی کی جس کے تحت سرکاری لائف انشورنس ایجنسی کے ذریعے گوتم اڈانی کے کاروباروں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی گئی۔
Exclusive: The Indian government allegedly directed $3.9 billion from the state-owned Life Insurance Corporation to India’s second richest man Gautam Adani’s businesses amid the mogul’s legal and financial challenges, a Post investigation reveals. https://t.co/jm9guPzG30
— The Washington Post (@washingtonpost) October 24, 2025
بھارتی حکومت کی اندرونی دستاویزات میں ایک مجوزہ 3.9 ارب امریکی ڈالر کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے ذریعے اڈانی گروپ کے بانڈز اور ایکویٹی میں سرمایہ کاری کی گئی، یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا میں اڈانی گروپ کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات کے مطابق، بھارتی حکومت نے مبینہ طور پر ریاست کی ملکیت لائف انشورنس کارپوریشن کے 3.9 ارب ڈالر گوتم اڈانی کے کاروباروں میں منتقل کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اہل کاروں نے اس منصوبے کی براہِ راست نگرانی کی جس کے تحت اڈانی گروپ کو سرمایہ فراہم کیا گیا۔
بھارت کے دوسرے امیر ترین شخص گوتم اڈانی پر گزشتہ سال امریکی حکام نے رشوت اور فراڈ کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد مغربی بینکوں نے انہیں قرض دینے سے گریز کیا تھا۔












اتوار 26 اکتوبر 2025 