سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کے 4 ڈرونز فضا میں تباہ کر دیے

Calender Icon جمعہ 2 اکتوبر 2026

سعودی عرب(Saudiarabia) کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چار ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کردیا، جبکہ دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے صنعاء، صعدہ اور تعز میں حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حوثیوں نے سعودی شہر خمیس مشیط اور جازان کو ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم تمام اہداف کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔ سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ خمیس مشیط کے علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے محدود مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اتحادی افواج کے مطابق جازان کے اوپر بھی دو بیلسٹک میزائل اور چار ڈرونز مار گرائے گئے۔ جازان سعودی عرب کی اہم توانائی اور تیل کی تنصیبات کے قریب واقع ہے، جبکہ خمیس مشیط میں ایک اہم فضائی اڈہ بھی موجود ہے۔


ادھر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کے انتہائی اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شام حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعاء میں کئی زوردار دھماکے سنے گئے، جبکہ شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے بڑے بادل بھی اٹھتے دکھائی دیے۔

مزیدپڑھیں:حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات آج، 6،6 رکنی کمیٹیاں تشکیل

یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے بتایا کہ صنعاء کے علاوہ شمال مغربی صوبے صعدہ میں بھی 11 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تعز میں بھی حوثیوں کے خلاف 27 فضائی حملے کیے گئے۔

یمنی حکومتی فورسز کے مطابق تعز میں ہونے والی کارروائیوں میں میزائلوں کے گودام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحے اور رسد کے مراکز، جنگجوؤں کے اجتماعات اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ حملوں کے نتیجے میں متعدد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ ہوا، جبکہ حوثیوں کے متعدد ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے ’سبأ‘ نے صنعاء میں ہونے والے حملوں کو ’سعودی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ حوثی حکام نے سعودی عرب کے بعض الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی اتحاد نے اس ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا، جس سے ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہوگیا، تاہم بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کے ملبے کے معائنے سے حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔

حوثیوں کے زیر انتظام ’سبأ‘ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی گھر کو نشانہ بنانے کا سعودی دعویٰ جھوٹ ہے۔ حوثی حکام نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب اس بیان کے ذریعے دیگر معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کردیا گیا۔ سعودی اتحاد نے اسے 2017 کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا تھا، تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا کسی بھی مقدس اسلامی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔

سعودی اتحاد کا مزید کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مقدس مقامات اور ان کے زائرین کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔