بچوں کے آن لائن تحفظ کیلئے مؤثر قانونی و ریگولیٹری اقدامات ناگزیر ہیں،این سی ایچ آر

Calender Icon ہفتہ 3 اکتوبر 2026

بچوں کو آن لائن گرومنگ، استحصال اور نقصان دہ مواد سے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق زیرِ سماعت کیس میں نیشنل کمیشن فار چائلڈ رائٹس نے 17 صفحات پر مشتمل جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کیلیے مؤثر قانونی و ریگولیٹری اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے دو دن پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے پاس 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کا قانونی اختیار نہیں۔ پی ٹی اے اختیارات سے تجاوز کرکے بچوں کی عمر کی تصدیق کا نظام قائم نہیں کر سکتی، بچوں کوآن لائن خطرات سے بچانے کیلئے نیا قانونی پالیسی فریم ورک ضروری ہے۔

کمیشن نے درخواست میں اٹھائے گئے بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے عمر کی تصدیق کے مؤثر طریقہ کار اور جامع ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل پر زور دیا ہے۔

نیشنل کمیشن فار چائلڈ رائٹس نے سفارش کی ہے کہ بچوں کا آن لائن تحفظ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے ریگولیٹری فریم ورک کا حصہ بنایا جائے، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کے تحفظ کے لیے مزید ذمہ دار بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو آن لائن گرومنگ، استحصال اور نقصان دہ مواد سے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی استعدادِ کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے استحصال کے خلاف خصوصی نظام تشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

جواب میں پیکا ترمیمی قانون کا بچوں کے حقوق کے تناظر میں ازسرِنو جائزہ لینے اور ضروری ترامیم کی سفارش بھی کی گئی۔ کمیشن نے بچوں اور نامعلوم بالغ افراد کے درمیان غیر ضروری آن لائن رابطوں کو محدود کرنے، مؤثر قانونی و انتظامی اقدامات اور موجودہ قانونی فریم ورک میں بہتری پر زور دیا۔

کمیشن نے جواب میں کہا کہ بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر قانونی و انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے جواب میں کہا کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کا معاملہ محض پالیسی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

پی ٹی اے نے ہائیکورٹ کو جمع کردہ جواب میں کہا تھا کہ غیر قانونی آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار محدود اور عبوری نوعیت کا ہے، پی ای سی اے ترمیم 2025 کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے، غیر قانونی مواد اور جعل سازی کی شکایت کیلئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی جلد قائم ہو گی۔

مزید پڑھیں:بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، 2 پاکستانی شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج

پی ٹی اے کے جواب میں بتایا گیا کہ سائبر کرائمز اور اخلاق باختہ مواد کے پھیلاؤ کیخلاف کارروائی اب این سی سی آئی اے کا اختیار ہے۔