میزائل کم بلندی پر پرواز کے دوران اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اوراُن کی بہن کا دعویٰ
شمالی کوریا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے ہفتے کو ایک بیان میں میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
ان کے مطابق میزائل کم بلندی پر پرواز کے دوران اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا اور جاپان کو اس “میزائل کی تیز رفتاری کا اعتراف” کرنے کو کہا مگر میزائل کی رفتار نہیں بتائی۔
میزائل کی خصوصیات گنواتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “اس میزائل کے حملے سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔”جنوبی کوریا کی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا، جس نے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔
میزائل کا تجربہ خصوصی مشن سونپے گئے فوجی یونٹ نے کیا جبکہ کم جونگ اُن نے خود اس مشق کی نگرانی کی۔انہوں نے جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے میزائل کے طے کردہ فاصلے سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندازوں سے ان کی میزائلوں کی نگرانی کی کمزور صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔
کم یو جونگ نے دعویٰ کیا کہ جب میزائل کو لہروں جیسی پرواز کے راستے پر چلایا گیا تو مخالف فریق اس کے پہلے مرحلے کے بعد بھی ہدف کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
شمالی کوریا رواں سال اب تک 10 سے زائد مرتبہ میزائل تجربات کر چکا ہے۔ پیانگ یانگ بعض تجربات کو نئے ہتھیاروں کے نظام کی آزمائش قرار دیتا رہا ہے۔ ان میں سے بعض تجربات جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف شمالی کوریا کے احتجاج کے بعد کیے گئے۔یہ میزائل تجربہ کم یو جونگ کے جمعے کو جنوبی کوریا کے معافی کے مطالبے کو مسترد کرنے والے بیان کے ایک روز بعد کیا گیا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد، رینجرز تعیناتی کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع، نوٹیفکیشن جاری
جنوبی کوریا نے الزام عائد کیا تھا کہ غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں شمالی کوریا کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے اس کے فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہے اور سخت فوجی نگرانی میں رہتا ہے۔













ہفتہ 3 اکتوبر 2026 

