خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، پیپلزپارٹی نےبھرپور مخالفت کی، بلاول بھٹو

Calender Icon ہفتہ 3 اکتوبر 2026

خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ احتجاج پر ہے جبکہ وہاں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ دہشت گری کے خاتمے کیلیے معاہدہ کرے، خطاب

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ ملتوی کر کے وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے معاملے پر بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت نے کے پی میں گورنر راج کا ذہن بنالیا تھا مگر پیپلزپارٹی نے معاملے کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا۔

کراچی میں گریٹر کراچی سیوریج پلان کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد میں آج کل بہت کچھ ہورہا ہے اور گزشتہ دس روز سے دارالحکومت بند پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں بیماری ہوتی ہے تو کراچی کو کھانسی ہوجاتی ہے، اگر وہاں دہشت گردی ہوگی تو اس سے سندھ بھی متاثر ہوگا، دہشت گردی پیپلزپارٹی کی ریڈ لائن ہے اور ہمیں متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اس معاملے کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں وفاقی حکومت نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ فوری گورنر راج یا ایجنسی نافذ کی جائے مگر پیپلز پارٹی کا خیال تھا کہ اس معاملے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے پھر ہم نے حکومت سے پی ٹی کے ساتھ مذاکرات کی اجازت مانگی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا دھیان احتجاج پر ہے جبکہ اُن کے صوبے میں دہشت گردی بڑھ چکی ہے، اگر حالات کنٹرول میں نہ ہوئے تو پھر مجبوری میں گورنر راج لگا دیا جائے گا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ کہ ہم کو پی ٹی آئی سے بات کرکہ وفاقی حکومت سے معاہدہ کروانا ہوگا، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کو وفاق کے ساتھ بیٹھ کر معاہدہ کرنا چاہیے۔ امید کرتا ہوں اسلام آباد میں بیٹھی تمام سیاسی جماعتیں سیاسی حل نکالیں گی تاکہ ہمیں دہشتگردی کا مقابلہ امرجنسی کی صورت میں نہ کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں:صرف 30 ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ 1.35 ملین ڈالر میں نیلام

بلاول بھٹو نے کہا ہک دہشتگرد پیپلز پارٹی کی ریڈ لائن ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں اور مزید سورش بڑھی تو پھر اس کے اثرات تمام صوبوں پر پڑیں گے لہذا تمام جماعتیں بیٹھ کر دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے پلان بنائیں۔