وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سے لانگ مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کی دعوت دے دی۔ملکی معیشت میں استحکام آیا،اب ترقی کا وقت ہے،دھرنوں اور لانگ مارچ سے ملک کا نقصان ہوگا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیر چوک توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بامقصد اور بامعنی مذاکرات کا فیصلہ کیا ہمیں امید تھی کہ بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے مگر بدقسمتی سے یہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دھرنوں اورلانگ مارچ کا بھیانک سایہ دوبارہ نمودارہو رہا ہے، ملکی معیشت کو ہم نے بڑی محنت سے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا تھا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا کیا ملک دشمنی نہیں ہے؟
شہبازشریف نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی اورکہا کہ اگرلانگ مارچ ختم کریں توہم آپ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں،عوام کے جان ومال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا،اب ترقی کا وقت ہے، دھرنوں اور لانگ مارچ سے ملک کا نقصان ہوگا۔
اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف نائن کے سائز کا ایک اور پارک اسلام آباد میں بنائیں گے، زمینوں کے تمام ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جارہا ہے، اسلام آباد آنے والے مہمانوں کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے۔
انہوں نے کشمیر چوک کے منصوبے سے متعلق بتایا کہ یہ منصوبہ ایک ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہوگا جس پر ایک ارب 45 کروڑ 48 لاکھ روپے لاگت آئے گی، اس کی تکمیل سے کشمیر چوک پر ٹریفک جام کا مسئلہ حل ہوگا اور راولپنڈی جانے کے لیے جہاں پہلے 30 منٹ لگتے تھے، اس منصوبے کی تکمیل کے بعد فاصلہ 15 منٹ تک کا رہ جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور آخری راؤنڈ 3 اکتوبر کو تقریباً 10 گھنٹے سے زائد چلا لیکن مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ہی ختم ہو گئے تھے۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری مذاکراتی ٹیم میں شریک تھے جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی نے کی، اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر شامل تھے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات ختم ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد اتوار کی سہ پہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات تقریباً کامیاب ہوگئے تھے مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ناسمجھی اور امیچورٹی کی وجہ سے ڈیڈلاک پیدا ہوگیا، انہوں نے پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے ہر رکن کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار صرف سہیل آفریدی ہیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان کے کزن قاسم زمان کو تحویل میں لے لیا گیا
دوسری جانب گزشتہ روز سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا رویہ انتہائی رعونت والا تھا، ہمارے دو بنیادی مطالبات، ایک عمران خان کا ان کے ذاتی معالج سے علاج اور دوسرا خیبرپختونخوا میں کسی بھی آپریشن پر ہم سے مشاورت تھے، مگر ہمارے دونوں مطالبات کو انتہائی رعونت سے مسترد کردیا گیا۔













منگل 6 اکتوبر 2026 

