سیاسی عدم استحکام اور ریاست کو دباؤ میں لاکر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کرایا جاسکتا، رانا ثنا اللہ

Calender Icon بدھ 7 اکتوبر 2026

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ(Rana Sanaullah) نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ جماعت نے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور سیاسی رواداری ختم کرکے عدم برداشت، نفرت اور گالم گلوچ کا کلچر پروان چڑھانے کی پالیسی اپنائے رکھی، جس کے اثرات آج بھی سیاسی ماحول میں نظر آ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ عدم استحکام اور ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کے عمل کو ترک کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے اور ریاست کو دباؤ میں لاکر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کرایا جاسکتا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2011 میں پی ٹی آئی کو سیاسی شناخت ملنے کے بعد سے، ان کے بقول جماعت کا ایک مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاسی رواداری کے بجائے عدم برداشت، نفرت اور گالم گلوچ کو فروغ دینا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اپنے ان مقاصد میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:بس نے راہگیر طلبا کو کچل ڈالا

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رواداری کبھی پاکستانی سیاست کا طرۂ امتیاز تھی، تاہم اسے گالم گلوچ اور ایک دوسرے کو برے القابات سے مخاطب کرنے کے کلچر میں تبدیل کردیا گیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آج بھی میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر ایسی صورتحال پیدا کی جاتی ہے جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور مذاکرات کا عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں عدم برداشت اور تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔

رانا ثنا اللہ نے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس وقت اسلام آباد میں طویل احتجاج کیا، جس کے بعد سیاسی عدم برداشت کے رجحان میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برس کے دوران پی ٹی آئی نے بطور سیاسی جماعت اس طرز سیاست کو مسلسل آگے بڑھایا۔