طاعون سے خاتون کی موت، ڈبلیو ایچ او کا نوٹس، روس سے وضاحت طلب کر لی

Calender Icon بدھ 7 اکتوبر 2026

خاتون سے رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا، جن میں سے تقریباً 100 افراد اسپتال میں داخل کیے گئے۔

عالمی ادارۂ صحت نے روس کے ارکتسک علاقے میں ایک لیبارٹری ملازمہ کی طاعون سے موت پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حکام کے مطابق علاقے میں حالیہ دنوں میں طاعون کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ادارہ ارکتسک اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ملازمہ کی 2 اکتوبر کو شدید نمونیا کے باعث موت کی میڈیا رپورٹس کے بعد سے روسی حکام سے رابطے میں ہے۔

میڈیا کی ابتدائی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیبارٹری میں کام کرنے والی سائیبیرین خاتون حادثاتی طور پر طاعون کے جراثیم سے متاثر ہونے کے بعد نیومونک طاعون کا شکار ہوئی تھیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت وضاحت طلب کیے جانے پر روسی محکمہ صحت نے بتایا کہ ارکتسک میں حالیہ عرصے کے دوران طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

روسی حکام نے یہ بھی بتایا کہ وبائی صورتحال کی تحقیقات کی گئیں، احتیاطی اور انسدادی اقدامات کیے گئے اور متاثرہ خاتون سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کرکے ان کی طبی نگرانی اور ٹیسٹ کیے گئے۔

روسی حکام کے مطابق ان افراد میں کسی انتہائی خطرناک جرثومے کی موجودگی نہیں پائی گئی اور تمام زیر نگرانی افراد کی طبی نگرانی مکمل ہو چکی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس نے روسی حکام سے مزید معلومات طلب کی ہیں تاکہ شدید نمونیا کی اصل وجہ، وہ جرثومہ جس کی موجودگی کے خدشے کے باعث صحت عامہ کے اقدامات کیے گئے، اور نمونیا کے نامعلوم سبب سے متاثر ایک دوسرے ملازم سے متعلق میڈیا رپورٹس کی وضاحت ہوسکے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کا تبادلہ متضاد رپورٹس کی وضاحت اور ممکنہ عوامی صحت کے خطرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے۔

یاد رہے کہ کہ ارکتسک کے اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی 27 یا 28 سالہ خاتون ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کے بعد بیمار ہوئی تھیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹیوب میں طاعون کے جراثیم موجود تھے اور خاتون شدید بیمار ہونے کے باعث اسپتال میں داخلے کے چھٹے روز 2 اکتوبر کو انتقال کر گئی تھیں۔

تاہم روسی حکام نے بعد میں کہا تھا کہ زیر نگرانی افراد میں طاعون کی تشخیص نہیں ہوئی۔ بعض افراد میں کورونا وائرس اور رائنو وائرس کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔ خاتون کی موت کی وجہ بننے والے مرض کی حتمی نوعیت اور مبینہ طاعون کی قسم کے بارے میں بھی اس وقت واضح معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔

میڈیا رپورٹس میں خاتون کی موت کو نیومونک طاعون سے جوڑا گیا تھا، جو طاعون کی ایک سنگین قسم ہے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونا ایک بار پھر سستا ہو گیا

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق طاعون نے ماضی میں نسل انسانی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چودہویں صدی میں اسے “بلیک ڈیتھ” کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کے نتیجے میں یورپ میں 5 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔