کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ کیا ہے؟کن لوگوں کو فائدہ پہنچے گا؟

Calender Icon جمعرات 8 اکتوبر 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد کے اہم ترین مقام پر سنگ بنیاد رکھے جانے والا کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ دارالحکومت کے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد مصروف ترین چوراہوں پر گاڑیوں کے دباؤ کو کم کرنا اور شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس تفصیلی رپورٹ میں اس منصوبے کی لاگت، فوائد، خصوصیات اور تعمیراتی کام کے دوران پیش آنے والے عارضی نقصانات یا مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

منصوبے کی لاگت (Cost):

اس منصوبے پر کل لاگت 1 ارب 45 کروڑ روپے (1.45 بلین روپے) تخمینہ لگائی گئی ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور متعلقہ اداروں کے مطابق فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ تعمیراتی کام بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔

سہولیات اور اہم خصوصیات (Features & Facilities):

اس انڈر پاس کی تعمیر سے سیرینا ہوٹل اور راولپنڈی سے آنے جانے والی ٹریفک کو سگنل فری یا انتہائی رواں دواں سہولت ملتی ہے، جبکہ مری اور دیگر علاقوں کی طرف جانے والی ٹریفک بغیر رکے اوپر والے راستے سے گزرے گی۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا انتہائی کم المدتی دورانیہ ہے؛ اس منصوبے کو صرف ایک ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا جاتا ہے۔ اس سے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کا قیمتی وقت بچتا ہے اور ایندھن کی بچت بھی ہوتی ہے۔

پروجیکٹ کے فوائد (Benefits):

روزمرہ مسافروں کے لیے آسانی: اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کا دیرینہ ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا۔

معاشی بچت: گاڑیوں کے طویل جیمز میں کھڑے رہنے سے جو ایندھن ضائع ہوتا تھا اس میں کمی آئے گی، اور آلودگی میں بھی کمی واقع ہوگی۔

علاقائی رابطہ: یہ منصوبہ مری، گلیات اور آزاد کشمیر جانے والے سیاحوں کے لیے بھی متبادل اور آسان روٹس کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ہر بڑے ترقیاتی منصوبے کی طرح اس کے ابتدائی مرحلے میں شہریوں کو کچھ عارضی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں ٹریفک ڈائیورشن اور جیمز شامل ہیں کیونکہ تعمیراتی کام اور سڑکوں کی بندش کے باعث متبادل راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جانا ہے۔

پروجیکٹ کی جگہ پر یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی اور کھدائی کے کام کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ کے سفر میں عارضی تاخیر اور دقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور تعمیراتی مشینری کی نقل و حرکت سے گرد و غبار اور عارضی طور پر رہائشی و دفتری زون میں شور کی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔

مجموعی طور پراگرچہ تعمیراتی مرحلے کے دوران شہریوں کو چند روز کے لیے ٹریفک کے مسائل جھیلنا پڑتے ہیں، تاہم طویل مدت میں یہ منصوبہ اسلام آباد کے بنیادی ڈھانچے اور ٹریفک کے نظام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔