خیرپور کے آخری حکمران انتقال کر گئے

Calender Icon جمعرات 8 اکتوبر 2026

میر جارج علی مراد خان دوم تالپور، جنہیں برطانوی ہندوستان کی کسی بھی سابق شاہی ریاست کے آخری زندہ حکمرانوں میں شمار کیا جاتا تھا، 5 اکتوبر 2026 کو پاکستان کے شہر سکھر میں انتقال کر گئے۔

میر جارج علی مراد خان دوم کی شاہی ریاست خیرپور نے 1947 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ ’رائل آرک‘ کی تحقیق کے مطابق شہزادے علی مراد خان کے نام میں ’جارج‘ کا اضافہ اُس وقت کے برطانوی بادشاہ جارج پنجم کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں پیدائش اور خیرپور کے شاہی خاندان سے تعلق

میر جارج علی مراد خان دوم 29 جون 1933 کو برطانیہ کے علاقے برائٹن، سسیکس میں پیدا ہوئے۔ وہ خیرپور کے حکمران میر فیض محمد خان دوم تالپور اور دلہن پاشا بیگم کے اکلوتے بیٹے تھے۔

میر سہراب خان تالپور کی قائم کردہ ریاست خیرپور کو برطانوی حکومت نے 1832 میں تسلیم کیا تھا۔ 1843 میں سندھ پر برطانوی قبضے کے بعد بھی خیرپور کو اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔

تاہم میر جارج علی مراد خان کے والد میر فیض محمد خان دوم ریاست خیرپور کے ایک غیر مؤثر حکمران ثابت ہوئے۔ اس وقت ریاست کا رقبہ تقریباً 15 ہزار 700 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 3 لاکھ تھی۔

آسٹریلوی مصنف جان زُبرزیکی نے سابق شاہی ریاستوں سے متعلق اپنی کتاب ’ڈی تھرونڈ‘ میں لکھا ہے کہ ریاست کی رعایا کی ایک بڑی تعداد غریب اور ناخواندہ تھی جبکہ کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے نتیجے میں خیرپور کی توپوں کی سلامی کا درجہ 19 سے کم ہو کر 15 توپوں تک آ گیا تھا۔

برطانوی ہندوستان میں تقریباً 600 شاہی ریاستیں موجود تھیں جو مجموعی طور پر برطانوی ہندوستان کے ایک تہائی رقبے پر مشتمل تھیں اور ان کی حیثیت کا تعین توپوں کی سلامی کی تعداد سے بھی کیا جاتا تھا۔

خیر پور حکمران01

والد کی گولی اور معجزانہ بچاؤ

وقت گزرنے کے ساتھ میر فیض محمد خان دوم میں مختلف ذہنی اور جسمانی امراض کی علامات ظاہر ہوئیں۔

جان زُبرزیکی کے مطابق ان کی ذہنی حالت پر اُس وقت مزید شکوک پیدا ہوئے جب انہوں نے حادثاتی طور پر اپنے نو ماہ کے بیٹے، میر جارج علی مراد خان، پر گولی چلا دی۔

گولی بچے کے معدے اور دائیں پھیپھڑے کو چیرتی ہوئی دائیں کندھے کے پچھلے حصے سے باہر نکل گئی، تاہم میر جارج علی مراد خان معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔

بعد میں وہ اپنے والد کے جانشین بنے۔

میر فیض محمد خان کو 1944 میں ’شیزوفرینک سِمپل‘ کے مرض میں مبتلا قرار دیا گیا۔ ان کے اختیارات محدود کر دیے گئے جبکہ پنجاب کے ریزیڈنٹ جے پی تھامپسن نے ریاست خیرپور کا انتظام سنبھال لیا۔

1947 میں تخت کی تبدیلی اور پاکستان سے الحاق

جان زُبرزیکی کے مطابق 1947 میں اقتدار کی منتقلی کی تاریخ قریب آنے پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سفارش کی کہ میر فیض محمد کو باضابطہ طور پر معزول کر دیا جائے اور ان کے نابالغ بیٹے جارج علی مراد کی طرف سے حکومت چلانے کے لیے ایک مجلسِ نیابت قائم کی جائے۔

اس اقدام کا مقصد خاندان کے افراد کی جانب سے تختہ الٹنے کی ممکنہ کوشش کو روکنا تھا۔

20 جولائی 1947 کو میر فیض محمد خان کو باضابطہ طور پر خیرپور کی حکمرانی سے سبکدوش کر دیا گیا اور علاج و بحالی کے لیے پونا بھجوا دیا گیا۔

اس دوران خیرپور پر بھارت سے الحاق کا کوئی دباؤ نہیں تھا اور پاکستان کی جانب سے بھی اس نوعیت کا کوئی فوری تقاضا نہیں کیا گیا تھا۔

ایک انگریزی اخبار ’ڈان‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 4 اگست 1947 کو خیرپور حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں 15 اگست 1947 کو خیرپور کا یومِ آزادی منانے کا اعلان کیا گیا۔

تاہم پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہونے کے بعد دستاویز پر میر آف خیرپور کی جانب سے وزیرِاعلیٰ غلام حسین خان تالپور نے 3 اکتوبر 1947 کو جبکہ پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل محمد علی جناح نے 9 اکتوبر 1947 کو دستخط کیے۔

لاہور اور کراچی کے درمیان ریلوے لائن کا ایک اہم حصہ ریاست خیرپور کی حدود سے گزرتا تھا، جس کے باعث نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے لیے یہ علاقہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔

جان زُبرزیکی کے مطابق اُس وقت نوجوان شہزادے جارج علی مراد خان کشمیر کی سیر پر تھے۔

تعلیم اور برطانیہ کا سفر

میر جارج علی مراد خان نے ابتدائی تعلیم سینٹ بوناوینچر ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل کی۔

انہوں نے ایچیسن کالج سے سینیئر کیمبرج کا امتحان پاس کیا، جس کے بعد مزید تعلیم کے لیے برطانیہ روانہ ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

ریاستی اختیارات میں کمی

مصنفین راجر ڈی لانگ، گرہَرپال سنگھ، یونس صمد اور ایان ٹیلبوٹ کی کتاب ’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق یکم فروری 1949 کو ایک اضافی معاہدے کے نتیجے میں جارج علی مراد خان اور دربار کے مؤثر اختیارات میں نمایاں کمی کر دی گئی۔

معاہدے کے تحت ریاستی فوج کا انتظام پاکستان کو دے دیا گیا جبکہ یہ بھی طے پایا کہ ریاست کے وزیرِاعلیٰ کا تقرر قومی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

’خیرپور گورنمنٹ ایکٹ 1949‘ کے ذریعے نیم جمہوری اصلاحات متعارف کروائی گئیں اور مقامی نمائندوں پر مشتمل 15 رکنی قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی۔

یوں خیرپور پاکستان کی ابتدائی دو ریاستوں، دوسری ریاست بہاولپور تھی، میں شامل ہو گیا جہاں بالغ رائے دہی کا نظام رائج کیا گیا۔

’رائل آرک‘ کی تحقیق کے مطابق بالغ رائے دہی کے اس نظام کے تحت ہونے والے انتخابات برصغیر میں اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات تھے۔

تاہم ’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق وزیرِاعلیٰ کو اسمبلی کی کارروائیوں پر ویٹو کا اختیار حاصل تھا اور وہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر بھی قوانین نافذ کر سکتا تھا۔

18 سال کی عمر میں حکمرانی کے اختیارات

1951 میں پاکستان کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے 18 سالہ علی مراد خان کو حکمرانی کے اختیارات سونپ دیے اور ریجنسی کونسل کو تحلیل کر دیا۔

دو سال بعد خیرپور کو صوبے میں تبدیل کرتے ہوئے مزید اختیارات مرکز کی جانب سے مقرر کردہ وزیرِاعلیٰ کے ہاتھ میں دے دیے گئے۔

کتاب ’سٹیٹ اینڈ نیشن بلڈنگ ان پاکستان‘ کے مطابق 25 مئی 1954 کو اسمبلی نے سندھ کے ساتھ انضمام کی تجاویز مسترد کر دیں۔

تاہم جب انضمام ناگزیر سمجھا جانے لگا تو 10 نومبر 1954 کو اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ انضمام کی قرارداد منظور کر لی۔

10 روز بعد میر جارج علی مراد خان نے پاکستان کے ساتھ انضمام کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور یوں ان کی خودمختار حکمران کی حیثیت ختم ہو گئی۔

لیاقت علی خان

خیرپور ایک ترقی پذیر ’فلاحی ریاست‘

جدید جنوبی ایشیا کے مؤرخ ڈاکٹر یعقوب خان بنگش اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ 1955 تک، یعنی 14 اکتوبر 1955 کو خیرپور کے مغربی پاکستان ’ون یونٹ‘ میں انضمام سے عین قبل، خیرپور ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری۔

ان کے مطابق پاکستان کی پہلی دہائی میں خیرپور ایک ترقی پذیر ’فلاحی ریاست‘ کی بہترین مثال بن گئی۔

بعد ازاں خیرپور کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت یہ سندھ کے خطے پر مشتمل تین ڈویژنوں میں سے ایک تھا۔

فوج، جنگلی حیات اور سماجی خدمات

’رائل آرک‘ کی تحقیق کے مطابق میر جارج علی مراد خان پاکستان آرمی میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل بھی رہے۔

1955 میں وہ خیرپور ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر بنے۔

1968 میں انہوں نے مہران وائلڈ لائف ریفیوج قائم کیا جبکہ 1986 سے 1994 تک سندھ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے نائب چیئرمین بھی رہے۔

وہ پاکستان ہسٹوریکل سوسائٹی سمیت متعدد اداروں سے بھی وابستہ رہے۔

ازدواجی زندگی

میر جارج علی مراد خان کی پہلی شادی صادق گڑھ پیلس، بہاولپور میں غلام صدیقہ بیگم سے ہوئی، جو بہاولپور کے فرمانروا نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔

تاہم یہ شادی بعد میں ختم ہو گئی۔

انہوں نے دوسری شادی علامہ راشد ترابی کی بیٹی عائلہ سے کی۔ ان کے بطن سے دو بیٹے، عباس رضا خان تالپور اور مہدی رضا خان تالپور، اور ایک بیٹی زہرا پیدا ہوئے۔

میر جارج اہلیہ

گوشہ نشینی اور فطرت سے محبت

صحافی شاہ زیب جیلانی کے مطابق بعد ازاں میر جارج علی مراد خان گوشہ نشین اور فطرت سے محبت کرنے والے انسان بن گئے تھے۔

وہ اپنی زندگی کے آخری برسوں تک خیرپور اور اس کے تاریخی و ثقافتی ورثے سے جڑے رہے۔

میر جارج علی مراد خان کا انتقال

میر جارج علی مراد خان دوم 5 اکتوبر 2026 کو سکھر میں انتقال کر گئے۔

ان کی وفات پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ریاست خیرپور اور سندھ کی تاریخ و ثقافت کے تحفظ کے لیے میر جارج علی مراد خان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ترقیاتی امور کے ماہر اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے بیٹے اسد علی شاہ کے مطابق میر جارج علی مراد خان کی وفات خیرپور، سندھ اور پاکستان کے ابتدائی تشکیلی برسوں کی تاریخ سے جڑے ایک غیر معمولی زندہ ربط کے اختتام کی علامت ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی تعزیتی پوسٹ میں اسد علی شاہ نے لکھا کہ خیرپور سے میر جارج علی مراد خان کی زندگی بھر کی وابستگی اور ان کی میراث کو عزت و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔

میر جارج علی مراد خان کی زندگی برصغیر کی شاہی ریاستوں کے عروج و زوال، پاکستان کے قیام، ریاستی انضمام اور جدید سندھ کی تشکیل کے ایک اہم تاریخی دور سے جڑی رہی۔ ان کے انتقال کے ساتھ خیرپور کی ریاستی تاریخ کا ایک اہم زندہ باب بھی اختتام پذیر ہو گیا۔