موبائل سگنلز کے بغیر بھی کال ممکن: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا ’وائی فائی کالنگ‘ ٹیکنالوجی پر معلوماتی اور تفصیلی جائزہ

Calender Icon ہفتہ 10 اکتوبر 2026

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور آئی سی ٹی کے تکنیکی ماہرین کی جانب سے ملک بھر کے موبائل صارفین کے لیے ’وائی فائی کالنگ‘ (VoWiFi) یعنی وائس اوور وائی فائی ٹیکنالوجی سے متعلق ایک جامع اور معلوماتی وائس گائیڈنس رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے تحت موبائل فون سگنلز یا ٹاور کوریج نہ ہونے کے باوجود بھی اپنے سِم نمبر کے ذریعے کسی بھی عام موبائل یا لینڈ لائن نمبر پر کالز کی جا سکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عمارتوں کے تہہ خانوں، بند کمروں يا شدید خراب موسم کے باعث بعض اوقات موبائل نیٹ ورک کے سگنلز مکمل طور پر غائب ہو جاتے ہیں، اور اگر کال وصول کرنے والے شخص کے پاس سمارٹ فون، واٹس ایپ یا انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہو تو رابطہ ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے۔ پی ٹی اے اور نیٹ ورک آپریٹرز کے مطابق اس تکنیکی مسئلے کا حل وائی فائی کالنگ (VoWiFi) میں پوشیدہ ہے، جس کی مدد سے صارف اپنے موبائل آپریٹر کے سگنلز نہ ہونے کے باوجود گھر یا دفتر کے وائی فائی کنکشن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اسی موبائل نمبر سے وائس کال اور ایس ایم ایس بھیج سکتا ہے۔

اطلاعات و مواصلات (آئی سی ٹی) کے ماہر پرویز افتخار کے مطابق ایک روایتی فون کال سب سے پہلے قریبی موبائل ٹاور، پھر موبائل کمپنی کے نیٹ ورک اور بعد ازاں وصول کنندہ کے قریبی ٹاور سے گزر کر منزل تک پہنچتی ہے۔ تاہم وائی فائی کالنگ کے دوران کال کا ابتدائی سفر موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی اور انٹرنیٹ کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ اس پروسیس میں آواز کو انٹرنیٹ ڈیٹا میں تبدیل کر کے ایک محفوظ راستے سے موبائل کمپنی کے مرکزی سسٹم تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے کمپنی اس کال کو روایتی انداز میں آگے منتقل کر دیتی ہے۔ اس پورے عمل کے دوران دوسری جانب موجود شخص کو یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کال موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی کے ذریعے کی گئی ہے۔

تکنیکی ماہرین کے مطابق وائی فائی کالنگ اور واٹس ایپ یا زوم کالز میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وائی فائی کالنگ موبائل آپریٹر کی اپنی بنیادی وائس سروس کا حصہ ہوتی ہے۔ اس میں وہی سِم نمبر استعمال ہوتا ہے اور کال حاصل کرنے والے کے لیے کسی مخصوص ایپ، انٹرنیٹ یا سمارٹ فون کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس سے لینڈ لائن نمبروں پر بھی رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں جاز اور زونگ سمیت تمام تمام بڑے نیٹ ورک آپریٹرز اس سہولت کی پشتیبانی کر رہے ہیں، جبکہ سام سنگ، ایپل، ہواوے، اوپو، ویوو اور شاؤمی کے زیادہ تر جدید 4G LTE اور VoLTE سپورٹڈ فونز پر یہ فیچر باآسانی کام کرتا ہے۔

پی ٹی اے کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق اینڈرائیڈ صارفین اپنے فون کی ’کنیکشنز‘ یا ’سِم سیٹنگز‘ میں جا کر اور آئی فون صارفین ’سیلولر‘ یا ’موبائل سروس‘ کے مینو میں جا کر وائی فائی کالنگ کے اپشن کو فعال (Enable) کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر کوئی اضافی یا چھپے ہوئے اخراجات لاگو نہیں ہوتے، بلکہ صارف کے موجودہ وائس پیکیج، منٹس یا عام کال ریٹس ہی استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ملک میں نیٹ ورک کوریج کے مسائل سے نپٹنے کے لیے ایک سستا اور انتہائی مؤثر اور جدید تکنیکی حل ہے۔

news-06-01

تکنیکی باریکیوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ وائی فائی کالنگ کا نظام صرف ایک بظاہر سادہ سہولت نہیں بلکہ یہ بنیادی طور پر ’آئی ایم ایس‘ (IP Multimedia Subsystem) نیٹ ورک لیول پر کام کرتا ہے۔ جب کوئی صارف اپنے فون میں اس اپشن کو فعال کرتا ہے، تو ڈیوائس کا آپریٹنگ سسٹم ریڈیو فریکوئنسی سگنلز کے بجائے انٹرنیٹ پروٹوکول (IP) کا محفوظ راستہ چنتا ہے۔ اس دوران صوتی لہروں کو اینکرپٹڈ ڈیٹا پیکٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ گفتگو کی رازداری اور معیار دونوں برقرار رہیں۔ علاوہ ازیں، اس عمل میں ’VoLTE‘ (Voice over LTE) کا کردار بھی اہم ہوتا ہے جو نیٹ ورک کو ایچ ڈی وائس کوالٹی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے کال ڈراپ ہونے کا امکان تقریباً ختم ہو جاتا ہے اور بجلی یا موبائل بیٹری کی کھپت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔