کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے میں پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بالی وڈ اداکار عمران خان ممبئی میں گرفتار

Calender Icon ہفتہ 10 اکتوبر 2026

بھارت میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے معروف بالی وڈ اداکار اور عامر خان کے بھانجے عمران خان کو کرانتی میدان سے حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی جانب سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد انتخابی عمل میں مبینہ ناانصافیوں کا خاتمہ اور چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ ہے۔ اسی سلسلے میں ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان میں منعقدہ مظاہرے کے دوران ممبئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 43 سالہ بالی وڈ اداکار عمران خان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس وین میں منتقل کیے جانے کے بعد اداکار نے اپنی ایک تصویر اور سیلفی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں وہ فتح کا نشان بناتے ہوئے طنزیہ کیپشن درج کرتے ہیں کہ “میں ڈرائیو پر جا رہا ہوں”۔ عمران خان اس سے قبل بھی آرٹ، سیاست، سماجی مسائل اور طلبہ پر پولیس تشدد کے موضوعات پر کھل کر اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

ممبئی پولیس کے اعلیٰ حکام کا اس گرفتاری کے حوالے سے کہنا ہے کہ کرانتی میدان میں احتجاج کے لیے منتظمین نے باضابطہ قانونی اجازت حاصل نہیں کی تھی، اور بمبئی ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق شہر میں صرف ’آزاد میدان‘ کو ہی مظاہروں اور احتجاجی اجتماعات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سی جے پی کے نمائندوں اور فعال کارکنوں نے پولیس موقف کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ای میل کے ذریعے متعلقہ حکام کو باضابطہ اطلاع اور اجازت کی درخواست ارسال کی تھی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اس تنازع کی لہر صرف ممبئی تک محدود نہیں ہے بلکہ نئی دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی احتجاج کا سلسلہ پھیل چکا ہے، جہاں اب تک سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور ممتا بینرجی سمیت تقریباً 1500 سے زائد سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے سی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ابھجیت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ایئر انڈیا کے طیارے میں سے حراست میں لیا تھا۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ تشویشناک انکشاف بھی سامنے آتا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے اندرونی حکام نے خود چیف الیکشن کمشنر کے 14 اہم فیصلوں پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں، جس سے الیکشن کمیشن کے شفاف ہونے کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔