‘خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار’

Calender Icon پیر 12 اکتوبر 2026

وزیرخارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے تفصیلات بیان کیں۔

صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ گزشتہ روز کیا گیا جس کے بعد صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی تھی۔

اسحاق ڈار کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا،دھرنوں اوراحتجاج کے باعث معیشت کوشدید نقصان پہنچا،خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے۔انہوں نے افغان رجیم پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کودہشتگردی کیخلاف استعمال نہ ہونےدے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کےمعاملے پربات چیت کیلئے افغانستان کےدورے بھی کیے،افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشتگرد پناہ لیے ہوئے ہیں اوریہ پاکستان کیخلاف سرگرم ہیں، بھارت پاکستان میں دہشتگردی اور بدامنی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی موجودگی کو خطے میں امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے لاحق دہشت گردی کا خطرہ پورے خطے کی سکیورٹی کیلئے بڑا چیلنج ہے، افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں،افغان حکام اپنے بین الاقوامی اور دوطرفہ وعدے پورے کریں۔

وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،عالمی برادری افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کا نوٹس لے،افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کونظر اندازنہیں کیاجاسکتا۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو کھولی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، عطاء تارڑ

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کوشہید کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،اسلام میں دہشتگردی اورانتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔