پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی خطرات کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات اور فوج کی تعیناتی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں جن میں صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ کا قیام، صوبے میں فوج کی تعیناتی، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آج پہلا دن ہے جب میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ایک پیج پر ہیں اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اہلکاروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے وہ تعاون حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ “سب سے زیادہ مشکل کام ان لوگوں کا تھا جو یہ جنگ لڑ رہے تھے۔ اور جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے تھے تو یہاں پہ کوئی (شہدا کے) جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتا تھا۔”
فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے بارے میں مزید کہا کہ یہ دہشتگردی کے خلاف ہونے کا دعویٰ تو کرتی تھی لیکن عملی اقدام اٹھانے سے گریز کرتی تھی۔ ہم نے یہ ڈھائی سال میں دیکھا اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں درجنوں دفعہ ہم نے ان لوگوں سے درخواست کی پلیز آپ (دہشتگردی کے خلاف جنگ میں) ہمارے ساتھ آئیں۔”
ان کا ماننا تھا کہ صوبائی حکومت کی قیادت اور تعاون کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ “ایک بات ضرور نوٹ کریں کہ جب حکومت ان کا ساتھ دے گی، اور ان کی قیادت کرے گی تو یہی فورس اور یہی لوگ آپ کو رزلٹ دیں گے۔”
گورنر نے شرکاء سے مزید کہا کہ نشیب و فراز آئیں گے اور ایک دن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن “آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں ہے خاص طور پہ جو ایڈوائزرز ہیں اور باقی سارے لوگ ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ مشکل سے مشکل وقت بھی آئے گا جس کا “ہم سب نے، آپ نے، گورنر صاحب نے، کور نے، پولیس نے، ایڈمنسٹریشن نے، فیڈرل گورنمنٹ نے، ہم نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔”
مزید پڑھیں:تکنیکی خرابی، پاک فوج کا تربیتی طیارہ کوئٹہ میں گر کر تباہ، 2 پائلٹس شہید، آئی ایس پی آر
وزیر داخلہ نے کہا دہشتگردوں میں ‘کوئی اتنی سکت نہیں ہے’ اور ان کے خلاف جنگ میں جو صوبائی حکومت کی حمایت کی کمی تھی وہ ‘ہم پورا کرنے کی کوشش کریں گے’ اور ‘آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے’۔













پیر 12 اکتوبر 2026 

