Calender Icon پیر 12 اکتوبر 2026

‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے’،قیام امن میں مشکل وقت بھی آئیگا، محسن نقوی

پشاور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختوںخوا کی عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے مشکل وقت بھی آئے گا’ لیکن اس صوبے کو ‘انشا اللہ باقی صوبوں سے آگے لے جائیں گے’

وہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات اور فوج کی تعیناتی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں جن میں صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ کا قیام، صوبے میں فوج کی تعیناتی، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آج پہلا دن ہے جب میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ایک پیج پر ہیں اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اہلکاروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے وہ تعاون حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ صوبائی حکومت کی قیادت اور تعاون کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

صوبائی ایپکس کمیٹی ایک ایسا فورم ہے جو صوبائی سطح پر سکیورٹی کو مربوط کرنے اور دسمبر 2014 میں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بنایا گیا۔

وفاقی سطح پر بھی ایک مرکزی ایپکس کمیٹی ہے جس کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں۔

جنوری 2015 میں سول اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، اور اسے پشاور سکول حملے کا ردعمل قرار دیا جاتا ہے۔

اسی پلان کے تحت صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں بنائی گئیں۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے جنوری میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ساتھ لاہور اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے ساتھ پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کیے تھے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومتی رہنماؤں کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے سے ہچکچاتے رہے۔

انہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس 4 فروری 2026 کو طلب کیا تھا۔

حکومتی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی صوبے میں دہشتگردی کے خلاف ٹھوس اقدامات سے بھی گریز کرتے رہے اور اسی بنا پر پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہوئے۔

اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج بلانے کا فیصلہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:‘خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار’

اس اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کا عزم خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا اور عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانا ہے۔ ان کے مطابق غیر معمولی اقدامات کا مقصد قانون کی عمل داری یقینی بنانا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، تاہم ریاست کے تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔