پشاور: خیبر پختونخوا میں سیاسی زلزلے اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر مرکزی رہنماؤں کی مبینہ حراست و گمشدگی کے کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ عدالت عالیہ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ہائی پروفائل سماعت نے صوبے کے سیاسی و قانونی حلقوں میں شدید سنسنی پھیلا دی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے فاضل ججز جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بازیابی کی مختلف درخواستوں پر تفصیلی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے پُرشور دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کو گزشتہ 10 روز سے لاپتا کیا گیا ہے۔
وکلا نے آئینی نقطہ اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئینِ پاکستان کے تحت اسپیکر صوبائی اسمبلی کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود انہیں اور پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر سمیت دیگر 11 افراد کو اسپیکر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس سے اٹھایا گیا ہے۔ معزول وزیراعلیٰ کے بھائی محمد عامر کے مطابق، 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مسلح اور نقاب پوش نامعلوم افراد نے پولیس آفیسرز کی موجودگی میں ان کے بھائی کو تحویل میں لیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے میڈیا اور دیگر ذرائع پر بار بار یہ بات کہی جا رہی ہے کہ تمام مذکورہ افراد انہی کی تحویل میں ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے باقاعدہ تصدیق کی تھی کہ معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حکومتی تحویل میں موجود ہیں۔
سماعت کے دوران جب وکلا نے فوری ریلیف اور عدالت میں پیشی کا تقاضا کیا توجسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا: “ہم کمنٹس منگوا لیتے ہیں، آپ اتنی تیزی نہ کریں۔ اس کے بعد عدالت نے وفاق اور متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلے 10 ایام میں جواب جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا۔













منگل 20 اکتوبر 2026 

