پاکستان کی حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں کی مذمت، افغان حکومت کے الزامات مسترد

Calender Icon پیر 26 اکتوبر 2026

پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

جبکہ افغان طالبان حکومت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

سعودی عرب پرپچھلے چند دنوں کے دوران حوثیوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے، مختلف واقعات میں اب تک 21 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز بھی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر 12 بیلسٹک میزائل داغے گئے جنہیں ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثی بیلسٹک میزائل حملے قابلِ مذمت ہیں۔ بیان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مکہ اتحاد کے لیے اپنے پختہ عزم کی توثیق کی اور مملکت کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

بیان میں دونوں مقدس مساجد کے تحفظ کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا جبکہ حملوں کا مقابلہ کرنے پر سعودی فضائی دفاعی فورسز کی مستعدی اور کارکردگی کو سراہا گیا۔

دوسرے بیان میں پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور غیرمصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے اور افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری کو چھپا نہیں سکتے۔ بیان کے مطابق رواں سال اب تک پاکستان میں ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں 3 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، فتنۃ الہندوستان اور ان سے وابستہ گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کے ذریعے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔افغان طالبان حکومت کی سرپرستی اور سہولت کاری میں دہشت گرد تنظیموں کو کارروائیاں کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں ناکامی کا جواب دہ ٹھہرایا جائے جبکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی جانے والی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت، ناگزیر ضرورت اور آخری چارۂ کار کے اصولوں کے مطابق کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے رسدی معاونت کے مراکز کے خلاف کی گئیں۔

مزید پڑھیں:مہنگی میموری چپس، اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، صارفین پریشان

پاکستان نے کہا کہ اس کا ردعمل خطرے کی نوعیت اور شدت کے تناسب سے تھا جبکہ کارروائیوں میں احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔