پاک انگلینڈ ون ڈے میں حارث رؤف اور وِل جیکس میں تلخ کلامی کس وجہ سے ہوئی

Calender Icon منگل 27 اکتوبر 2026

لاہور:پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سہ ملکی ون ڈے سیریز (ODI Tri-Series) کے سنسنی خیز اور معرکہ الآراء میچ کے دوران پاکستان کے تیز رفتار باؤلر حارث رؤف اور انگلش آل راؤنڈر وِل جیکس (Will Jacks) کے درمیان میدان میں شدید تلخ کلامی اور گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔

میچ کے آخری اور سنسنی خیز لمحات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو دیکھتے ہوئے فیلڈ امپائر اور انگلینڈ کے تجربہ کار بیٹر جو روٹ (Joe Root) کو فوراً مداخلت کرنی پڑی تاکہ معاملے کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اس آن فیلڈ تنازع کے باوجود، پاکستان نے شاداب خان کی ناقابلِ شکست پہلی بین الاقوامی سینچری اور حارث رؤف کے ساتھ مل کر کی جانے والی تاریخی دسویں وکٹ کی شراکت کی بدولت 1 وکٹ سے ڈرامائی اور حیران کن فتح حاصل کر لی۔

میچ کی حتمی رپورٹ اور دستیاب تفصیلات کے مطابق اس گرما گرمی کی بنیادی وجہ میچ کا شدید دباؤ اور امپائر کا ایک متنازع فیصلہ تھا، جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے درمیان نازیبا جملوں کا تبادلہ شروع ہوا:

انگلش باؤلر سام کرن (Sam Curran) نے نائنتھ ڈاؤن پر موجود شاداب خان کو ایک اونچا باؤنسر کروایا، جسے امپائر نےوائڈ بال قرار دے دیا۔ انگلش فیلڈرز، خصوصاً وِل جیکس، اس فیصلے سے شدید نالاں نظر آئے اور انہوں نے امپائر اور بیٹرز پر تنقید کرنا شروع کر دی۔
نان اسٹرائیکر اینڈ پر کھڑے حارث رؤف، جو پہلے ہی پاکستان کی نو وکٹیں گرنے کے شدید دباؤ میں تھے، انگلش کھلاڑیوں کے مسلسل طنز اور فقرے بازی پر آپے سے باہر ہو گئے۔


وِل جیکس کی جانب سے جملے کسنے اور آگے بڑھ کر جملہ ادا کرنے پر حارث رؤف نے غصے میں آ کر اپنا بلا (Bat) وِل جیکس کی طرف لہرایا اور انہیں دھمکی آمیز انداز میں اشارہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا کہا۔
حارث رؤف کی اس حرکت اور وِل جیکس کے سخت جوابی جملوں کے بعد دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کی طرف بڑھے، جس پر فیلڈ امپائر نے فوری طور پر دونوں کے درمیان حائل ہو کر ہاتھ سے فاصلہ بنایا، جبکہ جو روٹ نے آگے بڑھ کر حارث رؤف کے شانے پر ہاتھ رکھا اور انہیں محبت سے سمجھا کر الگ لے گئے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تنازع میچ کے اختتام پر ختم نہیں ہوا، بلکہ پاکستان کی ڈرامائی فتح کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے باہم ہاتھ ملانے (Post-Match Handshakes) کے دوران بھی حارث رؤف اور وِل جیکس کے درمیان دوبارہ تلخ جملوں اور طنز کا تبادلہ دیکھا گیا۔

اس میدانی تنازع کے برعکس میچ کی اصل کہانی آل راؤنڈر شاداب خان کی بے مثال اننگز رہی۔ 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کا ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام ہوا اور ایک موقع پر پاکستان کے 154 رنز پر 9 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کٹھن موڑ پر شاداب خان کا ساتھ دینے حارث رؤف کریز پر آئے۔ شاداب خان نے 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز بنا کر اپنی پہلی بین الاقوامی ون ڈے سینچری اسکور کی۔ شاداب اور حارث نے دسویں وکٹ کے لیے 89 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت داری قائم کر کے ہارے ہوئے میچ کا پاسا پلٹ دیا۔
فیصلہ کن شاٹ حارث رؤف نے 7 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی اور میچ کا آخری وننگ باؤنڈری چوکا لگا کر پاکستان کو 1 وکٹ سے یادگار فتح دلا دی۔

پاکستان کی اس ڈرامائی اور حیران کن فتح نے سہ ملکی سیریز کے پوائنٹس ٹیبل پر قومی ٹیم کی پوزیشن کو انتہائی مضبوط کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب بن ڈکٹ کی سنچری کے باوجود انگلینڈ کو ایک اور مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ حارث رؤف اور وِل جیکس کی تلخ کلامی نے میچ میں سنسنی پیدا کی، تاہم شاداب خان کی شاندار سینچری اور آخری وکٹ کی پارٹنرشپ نے اس تنازع کو پسِ پشت ڈال کر پاکستان کی فتح کو تاریخ کے اوراق میں درج کر دیا۔