اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (JUI) نے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر رات گئے اسلام آباد پولیس کی آمد اور اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری وضاحت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اہلکار رات گئے مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پہنچے اور اس دوران ایسی ویڈیو دکھائی جو مولانا کی رہائش گاہ والی گلی کی نہیں تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر متعلقہ ویڈیو کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمٰن کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔
اسلم غوری نے مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ سے سیکیورٹی ہٹانے کے احکامات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ جے یو آئی اور ان کے اہلِ خانہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کی سوچی سمجھی سازش کی مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر واضح کرے کہ اسلام آباد پولیس کو اس کارروائی کا حکم کس نے دیا اور غیر متعلقہ ویڈیو دکھا کر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور سیکیورٹی ختم کرنے کی کوشش کے پس پردہ عناصر کون ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں تیل سستا ہوگیا
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے اہلِ خانہ کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت قابل قبول نہیں، ان کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
اسلم غوری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن یا ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرائے، سازش کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائے۔
ترجمان جے یو آئی نے مزید کہا کہ حکمران ہماری سوچ سے کمتر نکلے ہیں، ہمیں نہ آزمائیں۔ جے یو آئی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں اور دباؤ سے مرعوب ہونے والی نہیں اور نہ ہی ان حربوں سے جماعت کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جے یو آئی نے اپنے میڈیا سیل کے ذریعے جاری بیان میں مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے اہلِ خانہ کی سیکیورٹی یقینی بنانے اور واقعے کی وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔













پیر 2 نومبر 2026 

