اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کی ذیلی کمیٹی نے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، تعمیراتی لاگت میں غیر معمولی اضافے اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔
کمیٹی نے بلوچستان کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں درپیش مشکلات دور کرنے اور بھرتیوں کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
سینیٹر جان محمد بلیدی کی زیر صدارت اجلاس میں پلاننگ کمیشن حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر 138 منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کی منظور شدہ لاگت ایک ہزار 984.3 ارب روپے ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے صوبے میں 193 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں 18 آبی اور 54 سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔
آبی منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان کی مجموعی لاگت 369.3 ارب روپے ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 16.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منگی ڈیم کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اس سے حاصل ہونے والا پانی بنیادی طور پر پینے کے لیے استعمال ہوگا۔
کنوینر کمیٹی نے پنجگور ڈیم منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی دریا کا پانی روکنے سے مقامی آبادی اور روایتی کاریزوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے منصوبے کی لاگت 18 ارب سے بڑھ کر 23 ارب روپے ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور سپارکو و واپڈا سے جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملہ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
گیش کور اسٹوریج ڈیم کی لاگت 11 ارب سے بڑھا کر 44 ارب روپے کیے جانے پر بھی کمیٹی نے سخت تشویش ظاہر کی۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے منصوبے کی مالی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی لاگت کے باوجود مقامی آبادی کو اس سے خاطرخواہ فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے متعلقہ محکمے کو منصوبے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ حکام نے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال کے باعث بعض ڈیم منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سڑکوں کے منصوبوں پر بریفنگ میں این ایچ اے حکام نے بتایا کہ کوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد، آواران۔ہوشاب روڈ کا 64 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ریکوڈک سے منسلک رابطہ سڑک تکمیل کے قریب ہے۔
حکام کے مطابق بلوچستان کے لیے مجموعی فنڈز کا 52 فیصد مختص کیا گیا ہے اور کراچی تا چمن شاہراہ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی نے مختلف رابطہ سڑکوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو طلب کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں بلوچستان کے لیے سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر بھی غور کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن حکام نے بتایا کہ صوبے کے کوٹے کے تحت 4 ہزار 500 سے زائد آسامیوں کے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں۔ بلوچستان کے امیدواروں کو گریڈ ایک سے چار کی بھرتیوں پر پابندی سے استثنیٰ، تکنیکی ٹیسٹ سے چھوٹ اور عمر کی حد میں پانچ سال رعایت دی گئی ہے، جبکہ خواتین کے لیے 10 اور اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مختص ہے۔
کنوینر کمیٹی نے پاکستان ریلوے میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو مستقل کرنے کے معاملے پر غور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آن لائن درخواستوں کے نظام میں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عمر میں رعایت کے باوجود سافٹ ویئر زائد العمر امیدواروں کو درخواست جمع کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔
مزید پڑھیں:وزیرِ اعظم کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے لیے آسان قرضوں پر زور
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی تاکہ بلوچستان کے اہل امیدوار روزگار کے مواقع سے محروم نہ ہوں۔













پیر 2 نومبر 2026 

