خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ ٹانک میں 4 پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا گیا۔پولیس نے علاقہ کی ناکہ بندی کرلی۔
رواں سال ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو متعدد حملوں اور پرتشدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کئی پولیو ورکرز کو اغوا کیا گیا جبکہ سکیورٹی پر تعینات متعدد پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔ بعض مقامات پر پولیو ٹیموں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، ان سے ویکسین اور دیگر سامان چھینا گیا۔
پولیو ٹیموں پر حملوں کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے، جہاں ٹانک، بنوں، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ، مہمند اور نوشکی سمیت مختلف اضلاع میں پولیو ٹیم پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر تازہ حملہ مہمند کے علاقے ڈاگ تمانزئی میں ہوا ہے جہاں انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر جانے والے پولیس اہلکاروں پرفائرنگ کی گئی۔
پولیس کے مطابق زخمی اہلکار کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکا بندی کر دی گئی ہے۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق ٹانک کے گاؤں شیخ اوتار میں نامعلوم افراد نے 4 پولیو ورکروں کو اسلحے کی نوک پر اغواء کر لیا۔
دریں اثناء وزیر داخلہ محسن نقوی نے مہمند میں انسداد پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہمارے صحت مند مستقبل کے لئے کوشاں ہیں۔ پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ ناقابل برداشت ہے۔ فائرنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
علاوہ ازیں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مہمند میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ٹیم کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔
گورنر نے کہا کہ شہداء نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ملک و قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے ٹانک میں 4 پولیو ورکرز کے اغوا کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ورکرز کا اغوا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
خیال رہے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے پولیو کیس رپورٹ ہو گیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں:کولمبیا میں 5.6 شدت کا زلزلہ، متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا
دوسری جانب ملک بھر میں انسداد پولیو کی مہم کل پیر سے شروع ہو گئی ہے جو 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران ملک کے 97 منتخب اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔













منگل 3 نومبر 2026 

