وفاقی بلدیاتی الیکشن شیڈول اور کمیشن آرڈر ہائیکورٹ میں چیلنج

Calender Icon جمعرات 5 نومبر 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی شیڈول اور الیکشن کمیشن کا 21 اکتوبر کا آرڈر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیتے ہوئے الیکشن شیڈول بھی جاری کیا تھا۔ اس شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا انعقاد 20 دسمبر کو کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کو اب اسلام آباد کے شہری چوہدری امجد علی نے چیلنج کیا ہے اور ان کے وکیل عادل عزیز قاضی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کروانا چاہتا ہے جن کی قانونی حیثیت کا تعین کیے بغیر الیکشن نہیں کرایا جا سکتا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے بلدیاتی اداروں کی قانونی مدت فروری 2021 میں ختم ہو چکی ہے، الیکشنز ایکٹ 2017 کے مطابق مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا قانوناً لازم ہے۔

چوہدری امجد علی نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2026 کے آرڈر اور انتخابی شیڈول کو غیرقانونی قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلے تک الیکشن کے عمل کو معطل يا ملتوی کیا جائے، جب تک قانونی تنازع حل نہیں ہوتا تب تک قانونی طور پر نئى اور شفاف حلقہ بندیاں کرانے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں اسلام آباد کی حلقہ بندیوں کے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے تعین کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

درخواست میں الیکشن کمیشن، وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے جن کے نتیجے میں تشکیل پانے والی منتخب بلدیاتی حکومت کی مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہو گئی تھی۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کا قرض مؤخر کر دیا، وفاقی وزیر خزانہ

قانون کے مطابق حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرائے جانے تھے لیکن قانون میں بار بار تبدیلیوں اور انتظامی مسائل کے باعث انتخابی عمل 5 سال سے تعطل کا شکار ہے۔