ٹیسلا کا ‘سائبر ٹرک’ کی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا ہے؟

Calender Icon ہفتہ 7 نومبر 2026

الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا(Tesla) کو اپنے ایک بڑے منصوبے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مستقبل کے پک اَپ ٹرک کے طور پر متعارف کرایا جانے والا ’سائبر ٹرک‘ صارفین کی توقعات کے مطابق مقبولیت حاصل نہیں کرسکا، جس کے بعد کمپنی نے اس کی پروڈکشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے جمعے کو اعلان کیا کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع کمپنی کے کارخانے میں سائبر ٹرک کی پروڈکشن 2027 کے وسط تک بتدریج بند کردی جائے گی۔

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس فیصلے سے کمپنی کو اپنی خودکار ٹیکسی سائبرکیب کی پروڈکشن بڑھانے میں مدد ملے گی۔ سائبرکیب ٹیسلا کے مستقبل کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، جس کے ذریعے کمپنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسیوں کا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتی ہے۔


سائبر ٹرک کی پروڈکشن ختم کرنے کا فیصلہ ٹیسلا کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ یہ ایلون مسک کے پسندیدہ منصوبوں میں سے ایک تھا۔ کمپنی نے اس گاڑی کو روایتی پک اَپ ٹرکوں کے مقابلے میں ایک جدید متبادل کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم اس کی فروخت مسلسل توقعات سے کم رہی۔

آٹوموٹو ڈیٹا پلیٹ فارم ’کیلی بلیو بک‘ کے مطابق ٹیسلا نے 2025 میں امریکا میں صرف 20 ہزار 237 سائبر ٹرک فروخت کیے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 38 ہزار 965 تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران فروخت میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں، سیلابی صورتِحال کا امکان

یہ اعداد و شمار ایلون مسک کی سابقہ پیش گوئی سے بھی خاصے مختلف ہیں۔ انہوں نے 2023 میں سائبر ٹرک کی پروڈکشن شروع ہونے کے قریب سالانہ ڈھائی لاکھ گاڑیاں فروخت کرنے کا ہدف ظاہر کیا تھا، تاہم کمپنی اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔

ایسٹن مارٹن کے سابق چیف ایگزیکٹو اینڈی پامر کے مطابق جب کوئی گاڑی اپنے فروخت کے اہداف حاصل نہیں کرپاتی تو اس کی پروڈکشن جاری رکھنا کاروباری لحاظ سے مناسب نہیں رہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر ٹرک کی فروخت کے اعداد و شمار اس کی صورتحال واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔

سائبر ٹرک کو ابتدا ہی سے اپنے غیر معمولی ڈیزائن کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا۔ 2019 میں پہلی بار متعارف کرائے جانے کے بعد اس کی نوکیلی ساخت اور اسٹین لیس اسٹیل سے بنا بیرونی ڈھانچہ بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ بعض صارفین نے اس ڈیزائن کو پسند کیا، جبکہ روایتی پک اَپ ٹرک پسند کرنے والوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

گاڑی کی رونمائی کے دوران بھی ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا تھا، جب ایلون مسک نے اس کے شیشوں کو ناقابلِ شکست ثابت کرنے کے لیے ان پر دھاتی گیندیں پھینکنے کا مظاہرہ کروایا، تاہم اس دوران دو شیشوں میں بڑے کریک پڑ گئے تھے۔

2023 میں گاڑی کی باضابطہ فروخت شروع کرتے ہوئے مسک نے اسے جنرل موٹرز اور فورڈ جیسی کمپنیوں کے پک اَپ ٹرکوں کا جدید حریف قرار دیا تھا۔ تاہم سائبر ٹرک کو فروخت کے دوران کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق فروخت شروع ہونے کے بعد سے سائبر ٹرک کو 11 مرتبہ مختلف مسائل کے باعث واپس منگوانا پڑا۔ بعض گاڑیوں میں فزیکل مرمت کی ضرورت پیش آئی، جبکہ دیگر مسائل سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے حل کیے گئے۔

آٹوموٹو تجزیہ کار فیلپے منوز کے مطابق سائبر ٹرک کی کم فروخت کو صرف کمپنی کی ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ امریکا میں الیکٹرک پک اَپ ٹرک مجموعی طور پر بھی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فورڈ سمیت دیگر کمپنیوں کی الیکٹرک پک اَپ گاڑیاں بھی امریکی مارکیٹ میں کامیاب نہیں ہوئیں۔

اس کے علاوہ سائبر ٹرک کا سخت اور نوکیلا ڈیزائن یورپی مارکیٹ میں بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنا۔ یورپ میں گاڑیوں کی منظوری کے لیے پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے متعلق سخت ضوابط موجود ہیں، جن پر سائبر ٹرک کا ڈیزائن پورا نہیں اترتا۔ اینڈی پامر کے مطابق ایسے ممالک میں جہاں گاڑیوں کے حفاظتی معیار میں پیدل چلنے والوں کو پہنچنے والے نقصان کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے، وہاں سائبر ٹرک کی منظوری حاصل کرنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب ٹیسلا اب اپنی توجہ الیکٹرک گاڑیوں کے بجائےاے آئی، روبوٹکس اور خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی پر بھی مرکوز کر رہی ہے۔ کمپنی کے اس نئے منصوبے میں سائبرکیب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

سائبرکیب دو نشستوں والی خودکار ٹیکسی ہے، جس میں روایتی گاڑیوں کی طرح اسٹیئرنگ وہیل، پیڈلز اور سائیڈ مررز موجود نہیں ہیں۔ اس کے دروازے تتلی کے پروں کی طرح کھلتے ہیں۔ ایلون مسک کا منصوبہ ہے کہ مستقبل میں یہ گاڑی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسیوں کے عالمی نیٹ ورک کا حصہ بنے۔

سائبرکیب کی پروڈکشن ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی تیاری رواں سال کے آغاز میں شروع ہوئی تھی۔ ٹیسلا نے اس ماڈل کے لیے سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ گاڑیاں تیار کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے، تاہم اس ہدف تک پہنچنا ابھی باقی ہے۔

ٹیکساس کے محکمہ موٹر وہیکلز کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں چلنے والی ٹیسلا کی 1200 سے زائد روبوٹ ٹیکسیوں میں سے تقریباً 570 سائبرکیب ہیں، جبکہ باقی زیادہ تر ماڈل وائی گاڑیاں ہیں۔

سائبر ٹرک کے چیف انجینئر ویس موریل نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سائبر ٹرک ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے اور اس کی ٹیکنالوجی سائبرکیب کے ذریعے آگے بڑھے گی۔

ادھر ٹیسلا نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ سائبر ٹرک کی پروڈکشن کسی دوسرے کارخانے میں منتقل کی جائے گی یا اسے مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے ایکس پر ایک صارف کے جواب میں سائبر ٹرک کو ٹیسلا کی اب تک کی بہترین گاڑی قرار دیا، جبکہ اس کی پروڈکشن ختم کرنے کے فیصلے کو ایک دور کا اختتام کہا۔

سائبر ٹرک کی پروڈکشن ختم کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایلون مسک کی کاروباری سلطنت کو بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ان کی کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ مالیت میں رواں ہفتے 180 ارب ڈالر سے زیادہ کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سائبر ٹرک کا اختتام ٹیسلا کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کمپنی اب روایتی الیکٹرک گاڑیوں کے بجائے خودکار ٹیکسیوں اور روبوٹکس کے شعبے میں اپنی کامیابی کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔