پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید نے جیل سے شوہر کیخلاف خلع کا کیس کر دیا

Calender Icon اتوار 8 نومبر 2026

کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سوشل میڈیا ایکٹویسٹ صنم جاوید نے ‘ ذہنی ہم آہنگی’ نہ ہونے اور ’اختلافات‘ کے باعث شوہر عتیق ریاض سے خلع کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

فیملی عدالت نے خلع کے دعوے پر 25 نومبر کو شوہر عتیق ریاض کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔دعوے کے متن کے مطابق صنم جاوید اور شوہر کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اختلافات اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعیہ کے دل میں اب ازدواجی رشتے کے لیے شدید بیزاری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری نہیں رکھ سکتیں، اس لیے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کی ڈگری جاری کی جائے۔

درخواست کے مطابق صنم جاوید اور عتیق ریاض کا نکاح 22 ستمبر 2009 کو ہوا تھا اور ان کے 2 بچے ہیں۔

دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق لاہور کے رہائشی ہیں، مدعیہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور تنازع بھی لاہور میں پیدا ہوا، اس لیے لاہور کی فیملی کورٹ کو مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

بیرسٹر خدیجہ صدیقی کی وساطت سے دائر کیے گئے دعوے میں صنم جاوید نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی جائے۔فیملی عدالت نے ان کے شوہر سے جواب طلب کرتے ہوئے 25 نومبر کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

یاد رہے کہ صنم جاوید 9 مئی کے مقدمے میں کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 11 اگست 2025 کو 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مزید پڑھیں:مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کی مبینہ وائرل ویڈیو کا سچ: فیکٹ چیک میں بڑا انکشاف

ان کے شوہر عتیق ریاض بھی متعدد مقدمات میں ضمانت پر رہا ہیں۔ 28 اگست کو انہیں صنم جاوید کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل کے قریب سے حراست میں لے کر عظمیٰ بخاری جعلی ویڈیو اسکینڈل کے مقدمے میں گرفتاری ظاہر کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔