سپیکر ایاز صادق کا اپوذیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کا فیصلہ

Calender Icon پیر 5 جنوری 2026

اسلام آباد (طارق محمود سمیر)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے متعدد اراکین نے خود ان سے رابطہ کر کے اس نام پر عدم قبولیت کا اظہار کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اگر باضابطہ طور پر مذاکرات کے لیے ان کے پاس آتی ہے تو وہ حکومت سے بات کرنے اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان مذاکرات کو فیسلیٹیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم تاحال اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے میں انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اور وزیراعظم نے بھی انہیں اس حوالے سے مکمل اختیار دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑوں سے مشاورت اور نصیحت لینا ضروری ہوتا ہے، لیکن فیصلے آئینی دائرہ کار میں کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست نہ کی جائے۔ اسپیکر نے بتایا کہ عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے وہ چار خط لکھ چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم کسی بھی معاملے میں انہیں نہیں روکتے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے حوالے سے باضابطہ پراسیس شروع کر دیا جائے گا، اور اس عمل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق ضروری ہوگی۔

محمود خان اچکزئی کے حوالے سے سوال پر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اگر وہ انہیں اسپیکر نہیں مانتے تو عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی انہیں قبول نہیں کرتا تو ان کا دل بڑا ہے اور وہ اس پر کوئی گلہ نہیں رکھتے۔

اسپیکر کے مطابق اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی میں تاخیر ہو رہی ہے، تاہم وہ اس عمل کو آئینی اور شفاف طریقے سے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میں مذاکرات اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتا ہوں اگر رکن پارلیمنٹ کے علاؤہ کوئی مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے تو وہ حکومت سے خود رابطہ کرے۔